سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 405 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 405

۴۰۵ کے میدان میں بارہ ہزار فوج نے پیٹھ دکھائی ،مگر یہ مرکز تو حید اپنی جگہ سے متزلزل نہیں ہوا۔بہرحال سائبان تیار کیا گیا اور سعد اور بعض دوسرے انصار اس کے گرد پہرہ دینے کے لئے کھڑے ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے اسی سائبان میں رات بسر کی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رات بھر خدا کے حضور گریہ وزاری سے دعائیں کیں اور لکھا ہے کہ سارے لشکر میں صرف آپ ہی تھے جو رات بھر جاگے ، باقی سب لوگ باری باری اپنی نیند سو لئے۔اور چونکہ نیند کا آنا بھی ایک اطمینان کی علامت سمجھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔پھر خدا کا مزید فضل یہ ہوا کہ کچھ بارش بھی ہوگئی جس سے مسلمانوں کو یہ موقع مل گیا کہ حوض بنا بنا کر پانی جمع کر لیں۔اور یہ بھی فائدہ ہو گیا کہ ریت حجم گئی اور پاؤں زمین میں دھسنے سے رک گئے۔دوسری طرف قریش والی جگہ میں کیچڑ کی سی صورت ہو گئی اور اس طرف کا پانی بھی کچھ گدلا ہو کر میلا ہو گیا۔اس واقعہ کا بھی قرآن شریف نے ذکر کیا ہے۔اب رمضان ۲ ہجری کی سترہ تاریخ اور جمعہ کا دن تھا۔اور عیسوی حساب سے ۱۴ / مارچ ۶۲۳ تھی۔صبح اٹھ کر سب سے پہلے نماز ادا کی گئی اور پرستاران احدیت کھلے میدان میں خدائے واحد کے حضور سر بسجو د ہوئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد پر ایک خطبہ فرمایا اور پھر جب ذرا روشنی ہوئی تو آپ نے ایک تیر کے اشارہ سے مسلمانوں کی صفوں کو درست کرنا شروع کیا۔ایک صحابی سواد نامی صف سے کچھ آگے نکلا کھڑا تھا آپ نے اسے تیر کے اشارہ سے پیچھے ہٹنے کو کہا مگر اتفاق سے آپ کے تیر کی لکڑی اس کے سینہ پر جا لگی۔اس نے جرات کے انداز سے عرض کیا۔”یا رسول اللہ! آپ کو خدا نے حق وانصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔مگر آپ نے مجھے ناحق تیر مارا ہے واللہ میں تو اس کا بدلہ لوں گا۔صحابہ انگشت بدنداں تھے کہ سواد کو کیا ہو گیا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ اچھا سواد تم بھی مجھے تیر مار لو اور آپ نے اپنے سینہ سے کپڑا اٹھا دیا۔سواد نے فرط محبت سے آگے بڑھ کر آپ کا سینہ چوم لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔”سواد یہ تمہیں کیا سوجھی۔اس نے رقت بھری آواز میں عرض کیا۔یا رسول اللہ ! دشمن سامنے ہے کچھ خبر نہیں کہ یہاں سے بیچ کر جانا ملتا ہے یا نہیں۔میں نے چاہا کہ شہادت سے پہلے آپ کے جسم مبارک سے اپنا جسم چھو جاؤں۔“ ہے لے ہر دو واقعات کے لئے دیکھوسورۃ انفال : : توفیقات ۲۰ : " : ابن ہشام وابن سعد ابن ہشام