سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 404
۴۰۴ ،،، سامنے اپنے جگر گوشے نکال کر ڈال دیئے ہیں۔یہ نہایت دانشمندانہ اور حکیمانہ الفاظ تھے جو آپ کی زبان مبارک سے بے ساختہ طور پر نکلے کیونکہ بجائے اس کے کہ قریش کے اتنے نامور رؤساء کا ذکر آنے سے کمزور طبیعت مسلمان بے دل ہوتے ان الفاظ نے ان کی قوت متخیلہ کو اس طرف مائل کر دیا کہ گویا ان سردارانِ قریش کو تو خدا نے مسلمانوں کا شکار بننے کے لئے بھیجا ہے۔جس جگہ اسلامی لشکر نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہ تھی۔اس پر حباب بن منذر نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا خدائی الہام کے ماتحت آپ نے یہ جگہ پسند کی ہے یا محض فوجی تدبیر کے طور پر اسے اختیار کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بارہ میں کوئی خدائی حکم نہیں ہے تم کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو تو بتا ؤ ؟ حباب نے عرض کیا تو پھر میرے خیال میں یہ جگہ اچھی نہیں ہے۔بہتر ہوگا کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمہ پر قبضہ کر لیا جاوے۔میں اس چشمہ کو جانتا ہوں۔اس کا پانی اچھا ہے اور عموماً ہوتا بھی کافی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فر مایا اور چونکہ ابھی تک قریش ٹیلہ کے پرے ڈیرہ ڈالے پڑے تھے اور یہ چشمہ خالی تھا، مسلمان آگے بڑھ کر اس چشمہ پر قابض ہو گئے یکن جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ پایا جاتا ہے اس وقت اس چشمہ میں بھی پانی زیادہ نہیں تھا اور مسلمانوں کو پانی کی قلت محسوس ہوتی تھی۔پھر یہ بھی تھا کہ وادی کے جس طرف مسلمان تھے وہ ایسی اچھی یہ تھی کیونکہ اس طرف ریت بہت تھی جس کی وجہ سے پاؤں اچھی طرح جمتے نہیں تھے۔جگہ کے انتخاب کے بعد سعد بن معاذ رئیس اوس کی تجویز سے صحابہ نے میدان کے ایک حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ایک سائبان سا تیار کر دیا اور سعد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سائبان کے پاس باندھ کر عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ ! آپ اس سائبان میں تشریف رکھیں اور ہم اللہ کا نام لے کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو یہی ہماری آرزو ہے لیکن اگر خدانخواستہ معاملہ دگر گوں ہوا تو آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر جس طرح بھی ہو مدینہ پہنچ جائیں۔وہاں ہمارے ایسے بھائی بند موجود ہیں جو محبت و اخلاص میں ہم سے کم نہیں ہیں۔لیکن چونکہ ان کو یہ خیال نہیں تھا کہ اس مہم میں جنگ پیش آجائے گی اس لئے وہ ہمارے ساتھ نہیں آئے ورنہ ہرگز پیچھے نہ رہتے لیکن جب انہیں حالات کا علم ہوگا ، تو وہ آپ کی حفاظت میں جان تک لڑا دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔یہ سعد کا جوشِ ،، اخلاص تھا جو ہر حالت میں قابل تعریف ہے، ورنہ بھلا خدا کا رسول اور میدان سے بھاگے۔چنانچہ حنین ابن ہشام وطبری : طبری وابن ہشام