سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 403
۴۰۳ ہے۔آپ یہ خبر سن کر واپس تشریف لے آئے اور حضرت علی اور زبیر بن العوام اور سعد بن وقاص وغیرہ کو دریافت حالات کے لئے آگے روانہ فرمایا۔جب یہ لوگ بدر کی وادی میں گئے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کے چند لوگ ایک چشمہ سے پانی بھر رہے ہیں۔ان صحابیوں نے اس جماعت پر حملہ کر کے ان میں سے ایک حبشی غلام کو پکڑ لیا اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔اس وقت آپ نماز میں مصروف تھے۔صحابہ نے یہ دیکھ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز میں مصروف ہیں، خود اس غلام سے پوچھنا شروع کیا کہ ابوسفیان کا قافلہ کہاں ہے۔یہ حبشی غلام چونکہ لشکر کے ہمراہ آیا تھا اور قافلہ سے بے خبر تھا اس نے جواب میں کہا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے، البتہ ابوالحکم یعنی ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیہ وغیرہ اس وادی کے دوسرے کنارے ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔صحابہ نے جن کا میلان قافلہ کی طرف زیادہ تھا سمجھا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے اور دیدہ دانستہ قافلہ کی خبر کو چھپانا چاہتا ہے۔جس پر بعض لوگوں نے اسے کچھ زدو کوب کیا لیکن جب وہ اسے مارتے تھے تو وہ ڈر کے مارے کہہ دیتا تھا کہ اچھا میں بتاتا ہوں اور جب اسے چھوڑ دیتے تھے تو پھر وہی پہلا جواب دیتا تھا کہ مجھے ابوسفیان کا تو کوئی علم نہیں ہے البتہ ابوجہل وغیرہ یہ پاس ہی موجود ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں یہ باتیں سنیں تو آپ نے جلدی سے نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کو مارنے سے روکا اور فرمایا۔جب وہ سچی بات بتا تا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جھوٹ کہنے لگتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔۔پھر آپ نے خود نرمی کے ساتھ اس سے دریافت فرمایا کہ لشکر اس وقت کہاں ہے۔اس نے جواب دیا اس سامنے والے ٹیلے کے پیچھے ہے۔آپ نے پوچھا کہ لشکر میں کتنے آدمی ہیں۔اس نے جواب دیا کہ بہت ہیں مگر پوری پوری تعداد مجھے معلوم نہیں ہے۔آپ نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ کہ ان کے لئے ہر روز کتنے اونٹ ذبح ہوتے ہیں۔اس نے کہا کہ دس ہوتے ہیں۔آپ نے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ایک ہزار آدمی معلوم ہوتے ہیں ہے اور حقیقتاً وہ اتنے ہی تھے۔پھر آپ نے اس غلام سے پوچھا کہ رؤساء قریش میں سے کون کون لوگ ہیں۔اس نے کہا۔عتبہ، شیبہ، ابوجہل، ابوالبختری ، عقبہ بن ابی معیط ، حکیم بن حزام ، نضر بن حارث، امیہ بن خلف سہیل بن عمر و، نوفل بن خویلد، طعیمہ بن عدی ، زمعہ بن اسود وغیرہ وغیرہ سب ساتھ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا هذَا مَكَّةَ قَدْ الْقَتْ إِلَيْكُمُ افَلا ذَ كَبِدِهَا۔یعنی ”لو مکہ نے تمہارے ابن ہشام سے مسلم وابوداؤد ،، : ابھی تک قافلہ کا خیال دل سے نہیں نکلا تھا اور اسی کی خواہش غالب تھی۔: طبری صفحه ۱۳۸۹ ه مسلم وابوداؤد