سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 401
۴۰۱ اور ساتھ ہی عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔ہاں اب بڑی خوشی سے ہمارے ساتھ چلو مدینہ سے نکلتے ہوئے آپ نے اپنے پیچھے عبداللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر مقرر کیا تھا۔مگر جب آپ روحاء کے قریب پہنچے جو مدینہ سے ۳۶ میل کے فاصلہ پر ہے تو غالبا اس خیال سے کہ عبداللہ ایک نابینا آدمی ہیں اور لشکر قریش کی آمد آمد کی خبر کا تقاضا ہے کہ آپ کے پیچھے مدینہ کا انتظام مضبوط رہے آپ نے ابولبابہ بن منذر کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے واپس بھیجوا دیا اور عبد اللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام الصلوۃ رہیں مگر انتظامی کام ابولبابہ سرانجام دیں۔مدینہ کی بالائی آبادی یعنی قبا کے لئے آپ نے عاصم بن عدی کو الگ امیر مقرر فرمایا۔اسی مقام سے آپ نے بسیس اور عدی نامی دو صحابیوں کو دشمن کی حرکات وسکنات کا علم حاصل کرنے کے لئے بدر کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ بہت جلد خبر لے کر واپس آئیں تے روحاء سے آگے روانہ ہو کر جب مسلمان وادی صفراء کے ایک پہلو سے گزرتے ہوئے زفران میں پہنچے جو بدر سے صرف ایک منزل ورے ہے تو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قافلہ کی حفاظت کے لئے قریش کا ایک بڑا جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔اب چونکہ اخفاء راز کا موقع گزر چکا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو جمع کر کے انہیں اس خبر سے اطلاع دی اور پھر ان سے مشورہ پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ظاہری اسباب کا خیال کرتے ہوئے تو یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ قافلہ سے سامنا ہو کیونکہ لشکر کے مقابلہ کے لئے ہم ابھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔مگر آپ نے اس رائے کو پسند نہ فرمایا۔دوسری طرف اکابر صحابہ نے یہ مشورہ سنا تو اٹھ اٹھ کر جاں نثارا نہ تقریریں کیں اور عرض کیا ہمارے جان و مال سب خدا کے ہیں۔ہم ہر میدان میں ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں۔چنانچہ مقداد بن اسود نے جن کا دوسرا نام مقداد بن عمرو بھی تھا کہا یا رسول اللہ ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپ کو یہ جواب دیں کہ جا تو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں گے۔آپ نے یہ تقریر سنی تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے تمتمانے لگ گیا۔مگر اس موقع پر بھی آپ انصار کے جواب کے منتظر تھے اور چاہتے تھے کہ وہ بھی کچھ بولیں۔کیونکہ آپ کو یہ خیال تھا کہ شاید لے مسلم آخر ابواب الجهاد والسیر ۴ : بخاری کتاب المغازی ابن ہشام : تاریخ الخمیس