سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 26

۲۶ حدیث وسیرۃ کی روایتوں میں ایک بنیادی فرق اس اصولی بحث کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گو مسلمان مصنفین نے اپنی روایات کی پڑتال میں روایت و درایت ہر دو قسم کے اصول کو علی قدر مراتب ملحوظ رکھا ہے مگر انہوں نے ہر قسم کی روایت کے لئے ایک ہی معیار نہیں رکھا بلکہ وہ ایک دانشمند محقق کی طرح اس غرض وغایت کے مناسب حال جس کے لئے کوئی روایت مطلوب ہوتی تھی اپنے معیار کو نرم یا سخت کرتے رہے ہیں۔یعنی بعض علوم میں انہوں نے اپنا معیار سخت رکھا ہے اور بعض میں نرم۔مثلاً حدیث میں جہاں عقائد و اعمال کا تعلق تھا محد ثین نے بڑی سختی کیسا تھ روایات کو پرکھا ہے اور اپنے معیار کو بہت بلند رکھا ہے لیکن سیرۃ و تاریخ وغیرہ میں اتنی سختی نہیں کی ، چنانچہ علامہ علی بن برہان الدین حلبی اپنی سیرۃ میں لکھتے ہیں کہ : لَا يَخْفى أَنَّ السِّيرَ تَجْمَعُ الصَّحِيحَ وَالضَّعِيفَ وَالْمُرُ سَلَ وَالْمُنقَطِعَ و یعنی یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ سیرۃ کی روایتوں میں صحیح اور ضعیف اور مرسل اور منقطع سبھی قسم کی روایتیں شامل ہیں۔“ اور پھر امام احمد بن حنبل اور دوسرے ائمہ حدیث کی زبانی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ : إِذَا رَوَيْنَا فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ شَدَدْ نَاوَ إِذَارَوَيْنَا فِي الْفَضَائِلِ وَنَحْوَهَا تَسَاهَلُنَا یعنی ہمارا اصول یہ ہے کہ جب ہم حلال و حرام کے مسائل کے لئے کوئی روایت بیان کرتے ہیں تو ہم اس کی تحقیق میں بڑی سختی سے کام لیتے ہیں۔لیکن فضائل اور سیرۃ میں اپنے معیار کو نرم کر دیتے ہیں۔“ اور اس اصول کی مزید تشریح یوں کرتے ہیں کہ : الَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْ اَهْلِ الْعِلْمِ التَّرَخْصُ فِي الرَّقَائِقِ وَمَا لَا حُكُم فِيهِ مِنْ اَخْبَارِ الْمَغَازِى وَمَا يَجْرِى مَجْرَى ذَالِكَ وَ إِنَّهُ يُقْبَلُ فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لِعَدْمِ تَعَلُّقِ الْأَحْكَامِ بِهَا - یعنی اکثر اہل علم نے یہی طریق رکھا ہے کہ ایسی باتیں جن میں شرعی احکام نہ بیان ہوں ل : سيرة حلبیہ جلد ا صفحه ا : سيرة حلبیہ جلد ا صفحه ا : سيرة حلبیہ جلد ا صفحه ا