سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 394
۳۹۴ اطلاع آنے پر بجائے اس کے کہ قریش جلدی سے نکل کھڑے ہوتے ان کا پورے ساز وسامان اور پوری تیاری کے ساتھ تین دن کے بعد نکلنا اور راستہ میں قافلہ کے بچ کر نکل جانے کی اطلاع آجانے پر بھی بڑی رعونت کے ساتھ آگے بڑھنے پر اصرار کرنا اور پھر عین میدان جنگ میں پہنچ کر جب کہ بعض لوگوں کی طرف سے جنگ کے روک دیئے جانے کی تحریک ہوئی ابو جہل وغیرہ کا نہایت سختی کے ساتھ لڑنے پر اصرار کرنا اور سارے لوگوں کا اسی کی تائید میں ہونا یہ سب اس بات کی یقینی شہادتیں ہیں کہ دراصل قافلہ کی حفاظت اور عمرو بن حضرمی کے قتل کے انتقام کا خیال ایک محض بہا نہ تھا اور اصل غرض اسلام کو مٹانا اور مسلمانوں کو نیست و نابود کر ناتھی۔اس اصولی بحث کے بعد ہم جنگ بدر کے حالات کا بیان شروع کرتے ہیں۔مگر ہم ناظرین سے استدعا کریں گے کہ ہماری اس اصولی بحث کو بدر کے حالات کے مطالعہ کے بعد ایک دفعہ پھر ملاحظہ فرما ئیں کیونکہ جنگ بدر کے حالات معلوم ہونے پر یہ بحث زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ آسکتی ہے۔