سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 393
۳۹۳ اظہار کے بغیر چارہ نہیں تھا۔بدر کے موقع پر یہ خبر آخر وقت تک بالکل پردہ میں رہی اور ممکن ہے بلکہ اغلب ہے کہ خدائی منشاء کے ماتحت جس کا قرآن شریف میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت تک یہ پردہ رکھنا ضروری خیال کیا ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن شریف اور تاریخ وحدیث کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو عام مؤرخین کا یہ خیال درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے کے سارے مسلمان محض قافلہ کے خیال سے مدینہ سے نکلے تھے اور لشکر قریش کی اطلاع سے وہ سے وہ سب قطعی طور پر بے خبر تھے اور نہ ہمارے جدید محققین کی یہ رائے درست ہے کہ مدینہ میں ہی سارے مسلمانوں کو شکر قریش کی آمد کی اطلاع ہو گئی تھی اور وہ اس اطلاع کے بعد مدینہ سے نکلے تھے بلکہ حق یہ ہے کہ پیشتر اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلتے لشکر اور قافلہ دونوں کی اطلاع آپ کو پہنچ چکی تھی۔مگر لشکر کی آمد مصلحنا بصیغہ راز رکھی گئی اور سوائے بعض خاص خاص صحابہ کے جو غالباً صرف اکابر مہاجرین میں سے تھے باقی سارے مسلمان اس سے بالکل بے خبر رہے اور اسی بے خبری کی حالت میں وہ مدینہ سے نکلے حتی کہ بدر کے پاس پہنچ کر لشکر قریش سے ان کا اچانک سامنا ہو گیا۔واللہ اعلم۔یہ سوال کہ کفار کی طرف سے جنگ بدر کا سبب کیا تھا یعنی لشکر قریش مکہ سے کس غرض وغایت کے ما تحت نکلا تھا۔اس کے متعلق قرآن شریف مندرجہ ذیل صداقت پیش کرتا ہے۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيْدٌ o یعنی اے مسلمانو! تم ان کفار کی طرح مت بنو جو اپنے گھروں سے تکبر اور نمائش کا اظہار کرتے ہوئے نکلے تھے اور ان کی غرض یہ تھی کہ اللہ کے دین کے رستے میں جبری طور پر روکیں پیدا کریں۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی کارروائیوں کا محاصرہ کر کے انہیں خائب و خاسر کر دیا۔“ اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ خواہ تحریکی سبب کوئی ہوا ہو اس مہم میں قریش مکہ کی اصل غرض وغایت ان کے ان خونی ارادوں پر مبنی تھی جو وہ شروع سے اسلام اور بانی اسلام کے متعلق رکھتے تھے اور قافلہ کی حفاظت یا عمرو بن حضرمی کے قتل کے انتقام کا خیال محض ایک آلہ تھا جس سے وہ عوام کو اشتعال دلانے اور ان کے جوشوں کو قائم رکھنے کا کام لیتے تھے اور تاریخ سے بھی اسی کی تصدیق ہوتی ہے۔چنانچہ قافلہ کے خطرے کی : سورۃ انفال : ۴۸