سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 392 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 392

۳۹۲ دنوں میں سے گیارہ یا بارہ دن تیاری اور سفر کے نکال دیں تو یہ یقینی نتیجہ نکلتا ہے کہ قریش نے تین یا چار رمضان کو مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تھا۔دوسری طرف اسلامی لشکر کے مدینہ سے نکلنے کی تاریخ عقلاً بھی اور روایتہ بھی بارہ رمضان ثابت ہوتی ہے یا گویا قریش کی تیاری اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خروج از مدینہ کے درمیان پورے آٹھ یا نو دن کا وقفہ تھا۔اس عرصہ میں لشکر قریش کی اطلاع بڑی آسانی کے ساتھ مدینہ میں پہنچ سکتی تھی بلکہ یہ عرصہ ایک شخص کے مکہ سے مدینہ جانے اور مدینہ سے پھر مکہ واپس آجانے کے لئے بھی کافی تھا۔کیونکہ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ ایک تیز روسوار جو ہر قسم کے بوجھوں سے آزاد ہو تیسرے چوتھے دن مکہ سے مدینہ پہنچ جاتا تھا۔تے اور اگر یہ سوال ہو کہ مکہ سے اطلاع دینے والا کون تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علاوہ اس کے کہ ابھی تک مکہ میں بعض کمزور اور غریب مسلمان موجود تھے جو اس قسم کے خطرات کی حالت میں خبر رسانی کا انتظام کر سکتے تھے۔ابھی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا عباس بن عبدالمطلب بھی مکہ میں ہی تھے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ ہر قسم کی ضروری خبریں مکہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھجوایا کرتے تھے۔کے چنانچہ غزوہ احد کے متعلق تو خاص طور پر یہ ذکر آتا ہے کہ عباس نے اس موقع پر لشکر قریش کی خبر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخفی طور پر بھجوائی تھی اور قاصد سے یہ شرط کی تھی کہ وہ تین دن کے اندر اندر یہ خبر مدینہ پہنچا دے گا۔چنانچہ یہ قاصد واقعی تین دن میں مدینہ پہنچ گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شکر قریش کی بر وقت اطلاع ہو گئی اور آپ نے شروع شروع میں یہ خبر صرف خاص خاص صحابہ پر ظاہر فرمائی اور بعد میں اعلان کیا۔ان حالات میں کیا یہ قرین قیاس نہیں بلکہ میں کہوں گا کہ یہ اغلب نہیں ہے کہ بدر کے موقع پر بھی عباس کی کوئی مخفی تحریر آپ کو پہنچ گئی ہو اور آپ نے اس خیال سے کہ مسلمانوں میں بددلی نہ پیدا ہو اس کا ذکر صرف خاص خاص صحابہ سے فرمایا اور عامتہ المسلمین سے اس خبر کو مخفی رکھا ہو؟ بلکہ ان حالات کی وجہ سے جواو پر بیان ہو چکے ہیں بدر کے موقع پر اس قسم کا پردہ رکھنا زیادہ ضروری تھا اور پھر یہ راز داری بدر میں اُحد کی نسبت آسان بھی زیادہ تھی کیونکہ اس موقع پر قافلہ کی آمد کی خبر بھی ساتھ موجود تھی جس کی وجہ سے لشکر قریش کی خبر آسانی کے ساتھ اور آخر وقت تک پردہ میں رکھی جاسکتی تھی۔اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں اُحد کے موقع پر عباس کی چٹھی کی خبر ظاہر ہوگئی کیونکہ گو شروع میں راز رکھا جا سکتا تھا لیکن بالآخر اس کے ابن سعد : زرقانی حالات غزوہ احد اسد الغابہ حالات عباس و مواہب اللہ نیہ حالات غزوہ بدر : زرقانی و ابن سعد و واقدی