سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 391 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 391

۳۹۱ اور پھر جب بدر کے پاس پہنچ کر قریش کے ایک حبشی غلام کے ذریعہ لشکر قریش کی اطلاع ہوئی تو صحابہ کا اس کے متعلق شک کرنا اور اسے جھوٹا سمجھنا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوراً بلا تامل مان لینا اور فرما نا کہ یہ غلام سچ کہتا ہے۔وغیر ذالک۔یہ سب اس بات کی شہادتیں ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے ہی لشکر قریش کی آمد کی اطلاع تھی مگر صحابہ اس سے بے خبر تھے۔سوائے ان خاص خاص صحابہ کے جنہیں قرآنی بیان کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خبر کی اطلاع ہو گئی ہوگی۔اب صرف یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ کیا یہ مکن تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوشکر قریش کی خبر مدینہ میں ہی مل جاتی اور پھر یہ کہ اگر آپ کو یہ خبر مل گئی تھی تو آپ نے کیوں صرف بعض صحابہ کو اطلاع دی اور اکثر مسلمان اس سے بے خبر رہے؟ سو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ ہاں ایسا ممکن تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تھے اور آپ پر خدا کا کلام نازل ہوتا تھا اور تاریخ سے ثابت ہے کہ بسا اوقات آپ کو آئندہ ہونے والے واقعات یا غیب کی خبروں سے خدائی وحی کے ذریعہ اطلاع دی جاتی تھی۔پس اگر اس موقع پر بھی آپ کو خدائی الہام کے ذریعہ یہ اطلاع مل گئی ہو کہ قریش کا ایک لشکر آ رہا ہے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں اور آپ کی زندگی کے واقعات کے لحاظ سے یہ ایک نہایت معمولی واقعہ سمجھا جائے گا۔اور چونکہ ایسا الہام جو کسی پیشگوئی کا حامل ہو بعض اوقات تاویل طلب ہوتا ہے اور اس کی پوری تفہیم بعض اوقات خود ملہم کو بھی واقعہ سے قبل نہیں ہوتی۔اس لئے ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاطاً اس الہی خبر کی اطلاع صرف خاص خاص صحابہ کو دی ہو اور اکثر مسلمانوں کو اس کی اطلاع نہ دی گئی ہوتا کہ ان میں اس خبر سے کسی قسم کی بددلی نہ پھلے جیسا کہ قرآن شریف سے بھی پتہ لگتا ہے کہ اسی جنگ میں دوسرے موقع پر بددلی کے سدباب کے لئے خدا نے یہ تصرف فرمایا تھا کہ مسلمانوں کی نظروں میں کفار کا لشکر ان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتا تھا۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ظاہری حالات کے لحاظ سے بھی یہ بات بالکل ممکن تھی کہ آپ کو مدینہ میں ہی لشکر قریش کی اطلاع موصول ہو جاتی۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ جب ابوسفیان کا قاصد مکہ میں پہنچا تو قریش نے تین دن تیاری میں صرف کئے۔" اور پھر بدر تک پہنچنے میں آٹھ یا نو دن مزید لگ گئے۔یہ کل گیارہ یا بارہ دن ہوئے۔باوجود اس کے جب اسلامی لشکر بدر میں پہنچا تو لشکر قریش پہلے وہاں پہنچا ہوا تھا اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں سولہ رمضان کو پہنچے تھے اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ قریش کا لشکر غالباً پندرہ تاریخ کو وہاں پہنچ گیا ہوگا اب ان پندرہ سے : صحیح مسلم : سيرة حلبيه سے زرقانی