سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 389
۳۸۹ کے لئے نکلنا ہرگز قابل اعتراض نہیں تھا۔کیونکہ اول تو یہ مخصوص قافلہ جس کے لئے مسلمان نکلے تھے ایک غیر معمولی قافلہ تھا جس میں قریش کے ہر مرد و عورت کا تجارتی حصہ تھا لے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق روساء قریش کی یہ نیت تھی کہ اس کا منافع مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہی منافع جنگ اُحد کی تیاری میں صرف کیا گیا۔پس اس قافلہ کی روک تھام تدابیر جنگ کا ضروری حصہ تھی۔دوسر کے عام طور پر بھی قریش کے قافلوں کی روک تھام اس لئے ضروری تھی کہ چونکہ یہ قافلے مسلح ہوتے تھے اور مدینہ سے بہت قریب ہوکر گزرتے تھے ان سے مسلمانوں کو ہر وقت خطرہ رہتا تھا جس کا سد باب ضروری تھا۔تیسر کے یہ قافلے جہاں جہاں سے بھی گزرتے تھے مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں سخت اشتعال انگیزی کرتے پھرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت نازک ہورہی تھی۔پس ان کا راستہ بند کرنا دفاع اور خود حفاظتی کے پروگرام کا حصہ تھا۔چوتھے قریش کا گزارہ زیادہ تر تجارت پر تھا اس لئے ان قافلوں کی روک تھام ظالم قریش کو ہوش میں لانے اور ان کو ان کی جنگی کارروائیوں سے باز رکھنے اور صلح اور قیام امن کے لئے مجبور کرنے کا ایک بہت عمدہ ذریعہ تھی اور پھران قافلوں کی روک تھام کی غرض لوٹ مار نہیں تھی بلکہ جیسا کہ قرآن شریف صراحتا بیان کرتا ہے خود اس خاص مہم میں مسلمانوں کو قافلہ کی خواہش اس کے اموال کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس وجہ سے تھی کہ اس کے مقابلہ میں کم تکلیف اور کم مشقت کا اندیشہ تھا۔اب رہی وہ بات جو قرآن شریف میں تاریخی بیان سے زائد پائی جاتی ہے سو وہ بھی تاریخ کے مخالف نہیں کہلا سکتی کیونکہ تاریخی بیان میں کوئی ایسی بات نہیں جو اس کے خلاف ہو البتہ یہ ایک زائد علم ہے جو ہمیں قرآن شریف سے حاصل ہوتا ہے اور بعض تاریخی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے مگر بہر حال یہی ایک بات ہے جو تاریخی نکتہ نگاہ سے قابل تشریح سمجھی جاسکتی ہے اور یہ بات قرآنی بیان کے مطابق یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلے تو اس وقت بعض مسلمان آپ کی اس مہم کو ایک مشکل اور نازک کام سمجھتے تھے۔اس پر طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے صحابہ کے دل میں یہ احساس تھا۔اگر محض قافلہ کی روک تھام کا خیال ہوتا تو تین سو جانثاروں سے زائد کی جمعیت کے ہوتے ہوئے یہ احساس ہرگز نہیں ہونا چاہئے تھا۔پس معلوم ہوا کہ قافلہ کی خبر کے ساتھ ساتھ کوئی اور خیال بھی تھا جو بعض مسلمانوں کو فکر مند کر رہا تھا۔یہ خیال کیا تھا ؟ اس سوال کا جواب تاریخ سے واضح طور پر : ابن سعد جلد ۲ صفحہ ۷ ۲ : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۲۵