سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 25 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 25

۲۵ در یعنی یحیی بن معین سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے کتنی حدیثیں لکھی ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے چھ لاکھ حدیث لکھی ہے۔“ یہ یا درکھنا چاہئے کہ یحییٰ بن معین جامعین حدیث میں سے نہیں ہیں۔جنہوں نے امام بخاری اور مسلم وغیرہ کی طرح کوئی مجموعہ حدیث پیچھے چھوڑا ہو بلکہ ان کا حدیث لکھنا صرف ایک راوی کی حیثیت میں تھا۔اسی پر دوسرے رُواۃ حدیث کا قیاس ہو سکتا ہے۔الغرض اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ صحابہ کے زمانہ سے ہی احادیث و روایات کا ضبط تحریر میں آنا شروع ہو چکا تھا اور بعد میں یہ سلسلہ زیادہ وسیع ہوتا گیا حتی کہ احادیث کے موجودہ مجموعوں میں ایک معتد بہ حصہ ایسی روایتوں کا موجود ہے جو زبانی روایتوں کے ساتھ ساتھ تحریری طور پر بھی مروی ہوتی ہوئی جامعین حدیث تک پہنچی ہیں۔ہمارا یہ مطلب نہیں کہ اکثر صحابہ حدیث لکھنے کے عادی تھے یا یہ کہ بعد کے راوی سب کے سب لازماً حدیث لکھ لیا کرتے تھے۔ایسا دعویٰ یقیناً واقعات کے خلاف ہوگا، بلکہ غرض صرف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی بعض نے حدیث لکھنے کا طریق شروع کر دیا تھا اور بعد کے زمانہ میں یہ طریق زیادہ وسیع ہو گیا گو پھر بھی یقیناً احادیث کا ایک معتد بہ حصہ زبانی روایت پر ہی بنی رہا ہے اور موجودہ مجموعوں میں ہر دو قسم کی روایات شامل ہیں۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ بعض حدیثوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان ہوا ہے کہ میری طرف منسوب کر کے سوائے قرآن شریف کے اور کچھ نہ لکھا کر ویا اور اس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ صحابہ حدیث نہیں لکھتے ہوں گے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو واقعات کے مقابل پر کوئی استدلال قابل قبول نہیں ہو سکتا۔جب واقعہ یہ ہے کہ بعض صحابہ حدیث لکھا کرتے تھے تو کوئی استدلالی دلیل اس کے مقابل پر کیا وزن رکھ سکتی ہے۔علاوہ ازیں ان احادیث کی حقیقت کے متعلق جن میں لکھنے سے منع کیا گیا ہے غور نہیں کیا گیا۔دراصل یہ احادیث خاص زمانہ اور خاص حالات کے متعلق ہیں اور صرف ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا کرتے تھے اور اس حکم سے غرض یہ تھی کہ تا قرآنی وحی کے ساتھ کوئی دوسری چیز مخلوط نہ ہونے پائے۔عام لوگوں کے لئے یا عام حالات میں کوئی روک نہیں تھی۔واللہ اعلم۔لے : مثلا دیکھو مسلم اور ترمذی وغیرہ