سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 382
۳۸۲ نز د یک روزہ دار شمار ہو جاؤ گے بلکہ تمہیں روزہ کی اصل روح کوملحوظ رکھنا چاہئے تا کہ اس سے تمہارے اندر طہارت نفس اور ضبط خواہشات اور مادہ قربانی اور غرباء کی امداد کا احساس پیدا ہواور فرماتے تھے کہ وہ شخص بہت بد قسمت ہے جس کو کوئی رمضان میسر آئے اور پھر اس کے گزشتہ گناہ معاف نہ ہوں۔آپ نوافل کے طور پر بھی روزہ کی تحریک فرمایا کرتے تھے مگر آپ کی یہ سنت تھی کہ آپ ہر بات میں میانہ روی کا حکم دیتے تھے۔چنانچہ آپ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص مسلسل روزے رکھتا چلا جاوے اور فرماتے تھے کہ انسان پر خدا نے اس کے نفس کا بھی حق رکھا ہے اور اس کی بیوی کا بھی حق رکھا ہے اور اس کے بچوں کا بھی حق رکھا ہے اور اس کے دوستوں کا بھی حق رکھا ہے اور ہمسایوں کا بھی حق رکھا ہے اور اسی طرح دوسرے حقوق ہیں اور ان میں سے ہر حق کو خدا کی شریعت اور منشا کے ماتحت ادا کرنا عبادت میں داخل ہے۔پس ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی شخص ایک خاص عبادت پر زور دے کر دوسرے حقوق کو نظر انداز کر دے۔غرض اس طرح اس سال رمضان کے روزے فرض ہو گئے اور اسلامی عبادات میں دوسرے رکن کا اضافہ ہوا، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح پنجگانہ نماز فرض ہونے سے قبل بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رنگ میں نفلی نماز پڑھا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی اس کی تلقین فرماتے تھے۔اسی طرح رمضان کے روزے فرض کئے جانے سے پہلے آپ نفلی روزے بھی رکھتے تھے ،مگر وہ اس طرح با قاعدہ اور معتین اور موقت صورت میں مشروع نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل آپ یوم عاشورہ یعنی محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ رکھا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی اس کی تحریک فرماتے تھے۔رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد رمضان کا آخر آیا تو آپ نے خدا سے حکم پا کر صدقۃ الفطر کا حکم جاری فرمایا کہ ہر مسلمان جسے اس کی طاقت ہو اپنی طرف سے اور اپنے اہل و عیال اور توابع کی طرف سے فی کس ایک صاع کے حساب سے کھجور یا انگور یا جو یا گندم وغیرہ بطور صدقہ عید سے پہلے ادا کرے اور یہ صدقہ غرباء اور مساکین اور یتامیٰ اور بیوگان وغیرہ میں تقسیم کر دیا جاوے تا کہ ذی استطاعت لوگوں کی طرف سے عبادت صوم کی کمزوریوں کا کفارہ ہو جاوے اور غرباء کے لئے عید کے موقع پر ایک امداد کی صورت نکل آئے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہر عید رمضان سے پہلے صدقۃ الفطر باقاعدہ طور پر ہر چھوٹے بڑے مرد عورت مسلمان سے وصول کیا جاتا تھا عیدالفطر : ایک عربی پیمانہ ہے جو وزن کے لحاظ سے کچھ اوپر تین سیر گندم کے برابر ہوتا ہے۔