سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 374
۳۷۴ کی ذات کو نقصان پہنچانے کی ہو، مگر مسلمانوں کو ہوشیار پاکر ان کے اونٹوں پر ہاتھ صاف کرتا ہوا نکل گیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ مدینہ پر چھاپے مار مار کر مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا جاوے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گو اس سے پہلے مسلمانوں کو جہاد بالسیف کی اجازت ہو چکی تھی اور انہوں نے خود حفاظتی کے خیال سے اس کے متعلق ابتدائی کارروائی بھی شروع کر دی تھی لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کفار کو عملاً کسی قسم کا مالی یا جانی نقصان نہیں پہنچا تھا لیکن کرز بن جابر کے حملہ سے مسلمانوں کو عملاً نقصان پہنچا۔گویا مسلمانوں کی طرف سے قریش کا چیلنج قبول کر لئے جانے کے بعد بھی عملی جنگ میں کفار ہی کی پہل رہی۔سریہ عبداللہ بن جحش بطرف نخلہ کرز بن جابر کے اچانک حملہ نے طبعا مسلمانوں کو بہت متوحش کر دیا تھا اور چونکہ رؤساء قریش کی یہ دھمکی پہلے سے موجود تھی کہ ہم مدینہ پر حملہ آور ہوکر مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیں گے، مسلمان سخت فکرمند ہوئے اور انہی خطرات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات وسکنات کا زیادہ قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جاوے تا کہ ان کے متعلق ہر قسم کی ضروری اطلاع بر وقت میسر ہو جاوے اور مدینہ ہر قسم کے اچانک حملوں سے محفوظ رہے۔چنانچہ اس غرض سے آپ نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی یا اور مصلحتاً اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جو قریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے کے تا کہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہو اور اس پارٹی پر آپ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن جحش کو امیر مقررفرمایا۔اور اس خیال سے کہ اس پارٹی کی غرض و غایت عامتہ المسلمین سے بھی مخفی رہے آپ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کو بھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جارہا ہے بلکہ چلتے ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک سر بمہر خط دے دیا اور فرمایا کہ اس خط میں تمہارے لئے ہدایات درج ہیں۔جب تم مدینہ سے دو دن کا سفر طے کر لو تو پھر اس خط کو کھول کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا۔چنانچہ عبد اللہ اور ان کے ساتھی اپنے آقا کے حکم کے ماتحت روانہ ہو گئے اور جب دودن کا سفر طے کر چکے تو عبد اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے۔اِمُضِ حَتَّى تُنْزِلَ نَحْلَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ فَتَرُصِدُ بِهَا قُرَيْشًا وَتَعْلَمُ لَنَا مِنْ اَخْبَارِهِمْ - یعنی " تم مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں جاؤ اور وہاں جا کر قریش ل ابن ہشام وطبری واقدی : طبری وسیرۃ ابن ہشام