سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 373 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 373

۳۷۳ غزوہ بواط ربیع الآخر ۲ ہجری اسی مہینہ کے آخری ایام یا ربیع الآخر کے شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر قریش کی طرف سے کوئی خبر موصول ہوئی جس پر آپ مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر خود مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے سائب بن عثمان بن مظعون کو مدینہ کا امیر مقر فرمایا لیکن قریش کا پتہ نہیں چل سکا اور آپ بواط تک پہنچ کر واپس تشریف لے آئے۔غزوہ عشیرہ اور سر یہ سعد بن ابی وقاص جمادی الاولی ۲ ہجری اس کے بعد جمادی الاولی میں پھر قریش مکہ کی طرف سے کوئی خبر پا کر آپ مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابوسلمہ بن عبدالاسد کو امیر مقرر فرمایا۔اس غزوہ میں آپ کئی چکر کاٹتے ہوئے بالآخر ساحل سمندر کے قریب منع کے پاس مقام عشیرہ تک پہنچے اور گوقریش کا مقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپ نے قبیلہ بنومد لج کے ساتھ انہیں شرائط پر جو بنوضمرہ کے ساتھ قرار پائی تھیں ایک معاہدہ طے فرمایا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔اسی سفر کے دوران میں آپ نے سعد بن ابی وقاص کو آٹھ مہاجرین کے ایک دستہ پر امیر مقرر کر کے قریش کی خبر رسانی کے لئے خراء کی طرف روانہ فرمایا ہے کرز بن جابر کا حملہ اور غز وہ سفوان جمادی الآخر ۲ ہجری مگر باوجود صحابہ کی اس قدر بیدار مغزی اور مسلمان پارٹیوں کے مدینہ کے گردونواح میں اس طرح ہوشیاری کے ساتھ چکر لگاتے رہنے کے قریش کی شرارت نے اپنے لئے راستہ پیدا کر ہی لیا۔چنانچہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں تشریف لائے دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مکہ کے ایک رئیس کرز بن جابر فہری نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل پر تھی اچانک حملہ کیا اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کر چلتا ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ہوئی تو آپ فور ازید بن حارثہ کو اپنے پیچھے امیر مقرر کر کے اور مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سفوان تک جو بدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا مگر وہ بیچ کر نکل گیا۔اس غزوہ کو غزوہ بدرالا ولی بھی کہتے ہیں کے کرز بن جابر کا یہ حملہ ایک معمولی بدویانہ غارت گری نہیں تھی بلکہ یقینا وہ قریش کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف خاص ارادے سے آیا تھا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ اس کی نیت خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طبری وابن ہشام ابن ہشام : ابن ہشام