سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 369
۳۶۹ روک تھام کے لئے اختیار کی جارہی ہے والا اگر ان کو یہ علم ہوتا کہ قریش کے لشکر کے ساتھ جنگ ہوگا تو وہ ضرور شامل ہوتے۔اور یہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہے کہ صحابہ کو قافلوں کی روک تھام میں ان کے اموال و امتعہ کی وجہ سے کوئی شغف نہیں تھا۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو صورت حال یہ ہونی چاہئے تھی کہ کسی قافلہ کی روک تھام کے موقع پر صحابہ زیادہ کثرت کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آگے بڑھتے مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس نظر آتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ سارے صحابہ ایک جیسے تھے۔بیشک ان میں بعض کمزور بھی تھے اور طبعاً یہ کمزوری ابتداء میں نسبتاً زیادہ تھی مگر جو تبدیلی صحابہ کی جماعت نے آپ کی تربیت کے ماتحت دکھائی وہ فی الجملہ نہایت محیر العقول اور حقیقتا بے نظیر تھی۔ل : ابن ہشام وطبری وا بن سعد