سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 368 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 368

۳۶۸ نہیں کی کہ ان کے قافلوں کے اموال پر قبضہ کریں بلکہ اس لئے کی کہ تدابیر جنگ کا تقاضا تھا کہ قریش کی تجارت کا رستہ بند کر دیا جاوے کیونکہ اس سے بہتر ان کو ہوش میں لانے اور صلح کی طرف مائل کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہ تھا۔باقی اگر قریش کا کوئی قافلہ مغلوب ہو گیا اور اس غلبہ کے نتیجہ میں اس کا مال و متاع مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو وہ جنگ کی فتوحات کا حصہ تھا جس کا ہر قوم اور ہر زمانہ میں فاتح کو حق دار سمجھا گیا ہے۔کیا معترضین کا یہ مطلب ہے کہ مسلمان کفار کے قافلوں کو تو بے شک روکتے اور ان کے آدمیوں کو مارتے لیکن قافلوں کے اموال کو اپنے تصرف میں نہ لاتے بلکہ اپنے خرچ پر اپنی فوج کی حفاظت میں نہایت احتیاط کے ساتھ مکہ بھجوا دیا کرتے تاکہ ان اموال کی مدد سے قریش دو چار اور جرار لشکر تیار کر کے مسلمانوں کے خلاف مدینہ پر چڑھا لاتے ؟ اگر ان کا یہی خیال ہے تو انہیں یہ خیال مبارک ہو۔ہمیں اعتراف ہے کہ اسلام کا دامن اس قسم کی بے وقوفی اور بے غیرتی اور خود کشی کی تعلیم سے پاک ہے اور یہ کہنا کہ ان قافلوں کی روک تھام میں مسلمانوں کو لوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی کس قدر ظلم ، کس قدر انصاف سے بعید ہے۔کیا اس قوم کو لوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی جن میں سے بعض نے ایک جہاد کے سفر میں بھوک سے سخت تنگ آکر اور گویا موت کے منہ پر پہنچ کر کسی کے ایک گلہ میں سے دو چار بکریاں پکڑ کر ذبح کرلیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر غصہ میں ہنڈیوں کو الٹ دیا اور گوشت کو مٹی میں مسلتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوٹ کا مال تمہارے لئے کس نے حلال کیا ہے؟ یہ تو ایک مردار سے بڑھ کر نہیں ؟“ پھر کیا اس قوم کو لوٹ مار کی تعلیم دی جاتی تھی جن میں سے نو مسلم لوگ جہاد پر جاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر پوچھتے تھے کہ یارسول اللہ! اگرلڑائی میں ایک شخص کی اصل نیت تو حفاظت دین ہو لیکن اسے کچھ یہ بھی خیال ہو کہ شاید غنیمت کا مال بھی مل جائے گا، تو کیا ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ہوگا ؟ اور آپ فرماتے تھے مہرگز نہیں ہرگز نہیں ایسے شخص کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے“ کیا ان واقعات کے ہوتے ہوئے قافلوں کی روک تھام کو لوٹ مار کی تعلیم سمجھا جاسکتا ہے؟ پھر یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو سمجھاتے رہتے تھے کہ جہاد میں دنیا کے خیالات کی ملونی نہیں ہونی چاہئے بلکہ صحابہ پر آپ کی اس تعلیم کا اثر بھی تھا اور یہ اثر اس قدر غالب تھا کہ وہ نہ صرف اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ان کے دلوں میں دنیا طلبی کے خیالات جاگزیں نہ ہوں بلکہ بعض اوقات وہ ایسے جائز موقعوں سے بھی بچتے تھے جن میں کمزور طبیعتوں کے لئے اس قسم کے خیالات پیدا ہونے کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔چنانچہ غزوہ بدر کے متعلق روایت آتی ہے کہ کئی صحابہ اس غزوہ میں اس لئے شریک نہیں ہوئے تھے کہ ان کا یہ خیال تھا کہ یہ ہم صرف قافلہ کی