سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 367
۳۶۷ تھے۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قریش سے چھٹکارا پانے اور مسلمانوں میں آملنے کا موقع ملتا ر ہے۔چہارم : چوتھی تدبیر آپ نے یہ اختیار فرمائی کہ آپ نے قریش کے ان تجارتی قافلوں کی روک تھام شروع فرما دی جو مکہ سے شام کی طرف آتے جاتے ہوئے مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے۔کیونکہ (الف) یہ قافلے جہاں جہاں سے گزرتے تھے مسلمانوں کے خلاف عداوت کی آگ لگاتے جاتے تھے اور ظاہر ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں اسلام کی عداوت کا تختم بویا جانا مسلمانوں کے لئے نہایت خطر ناک تھا۔(ب) یہ قافلے ہمیشہ مسلح ہوتے تھے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے قافلوں کا مدینہ سے اس قدر قریب ہو کر گزرنا ہرگز خطرہ سے خالی نہیں تھا۔(ج) قریش کا گزارہ زیادہ تر تجارت پر تھا اور اندریں حالات قریش کو زیر کرنے اور ان کو ان کی ظالمانہ کارروائیوں سے روکنے اور صلح پر مجبور کرنے کا یہ سب سے زیادہ یقینی اور سریع الاثر ذریعہ تھا کہ ان کی تجارت کا راستہ بند کر دیا جاوے۔چنانچہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جن باتوں نے بالآخر قریش کو صلح کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا ان میں ان کے تجارتی قافلوں کی روک تھام کا بہت بڑا دخل تھا۔پس یہ ایک نہایت دانشمندانہ تد بیر تھی جو اپنے وقت پر کامیابی کا پھل لائی۔(د) قریش کے ان قافلوں کا نفع بسا اوقات اسلام کو مٹانے کی کوشش میں صرف ہوتا تھا بلکہ بعض قافلے تو خصوصیت کے ساتھ اسی غرض سے بھیجے جاتے تھے کہ ان کا سارا نفع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔اس صورت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان قافلوں کی روک تھام خود اپنی ذات میں بھی ایک بالکل جائز مقصود تھی۔بعض متعصب عیسائی مؤرخین نے جن کو اسلام کی خوبیاں بھی بدی کی شکل میں نظر آتی ہیں یہ اعتراض کیا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ قریش کے قافلوں کولوٹنے کی غرض سے نکلتے تھے۔ہم ان عدل و انصاف کے مجسموں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا تمہاری قو میں جنہیں تم تہذیب و شرافت کے معراج کو پہنچا ہوا سمجھتے ہو جنگ کے زمانہ میں دشمن قوموں کے تجارتی رستے نہیں روکتیں ؟ اور کیا انہیں جب یہ خبر پہنچتی ہے کہ فلاں دشمن قوم کا کوئی تجارتی جہاز فلاں جگہ سے گزر رہا ہے تو وہ فوراً اس کے پیچھے ایک بحری دستہ روانہ کر کے اس کو تباہ و برباد کر دینے یا اسے مغلوب کر کے اس کے اموال پر قبضہ کر لینے کی تدابیر نہیں اختیار کرتیں؟ تو پھر کیا اس وجہ سے تمہارے فرمانرواؤں کا نام ڈاکو اور لٹیرے اور غارت گر رکھا جاسکتا ہے؟ یقینا اگر مسلمانوں نے قریش کے قافلوں کی روک تھام کی تو اس غرض سے