سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 366
۳۶۶ رہے کہ مسلمان بے خبر نہیں ہیں اور اس طرح مدینہ اچانک حملوں کے خطرات سے محفوظ ہو جائے۔سوم ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ تا اس ذریعہ سے مکہ اور اس کے گردونواح کے کمزور اور غریب مسلمانوں کو مدینہ کے مسلمانوں میں آملنے کا موقع مل جاوے۔ابھی تک مکہ کے علاقہ میں کئی لوگ ایسے موجود تھے جو دل سے مسلمان تھے مگر قریش کے مظالم کی وجہ سے اپنے اسلام کا بر ملا طور پر اظہار نہیں کر سکتے تھے اور نہ اپنی غربت اور کمزوری کی وجہ سے ان میں ہجرت کی طاقت تھی کیونکہ قریش ایسے لوگوں کو ہجرت سے جبرا روکتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا ۚ وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًان یعنی ”اے مومنو! کوئی وجہ نہیں کہ تم لڑائی نہ کرو اللہ کے دین کی حفاظت کے لئے اور ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر جو کمزوری کی حالت میں پڑے ہیں اور دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! نکال ہم کو اس شہر سے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہم ناتوانوں کے لئے اپنی طرف سے کوئی دوست و مددگار عطا فرما۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک یہ مصلحت بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قوم سے چھٹکارا پانے کا موقع مل جاوے۔یعنی ایسے لوگ قریش کے قافلوں کے ساتھ ملے ملائے مدینہ کے قریب پہنچ جائیں اور پھر مسلمانوں کے دستے کی طرف بھاگ کر مسلمانوں میں آملیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا دستہ ہی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبیدہ بن الحارث کی سرداری میں روانہ فرمایا تھا اور جس کا عکرمہ بن ابو جہل کے ایک گروہ سے سامنا ہو گیا تھا اس میں مکہ کے دو کمزور مسلمان جو قریش کے ساتھ ملے ملائے آگئے تھے، قریش کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ: فَرَّمِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ المِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو حَلِيْفٌ بُنُ زَهْرَةَ وَعُتُبَةُ بْنُ غَزْوَانَ حَلِيْفٌ بَنِي نَوْفَلَ وَكَانَا مُسْلِمَيْنِ وَلَكِنَّهُمَا خَرَجَايَتَوَصَّلَانِ بِالْكُفَّارِ إِلَى الْمُسْلِمِين - یعنی ” اس مہم میں جب مسلمانوں کی پارٹی لشکر قریش کے سامنے آئی تو دو شخص مقداد بن عمر و اور عتبہ بن غزوان جو بنو زہرہ اور بنو نوفل کے حلیف تھے مشرکین میں سے بھاگ کر مسلمانوں میں آملے اور یہ دونوں شخص مسلمان تھے اور صرف کفار کی آڑ لے کر مسلمانوں میں آملنے کے لئے نکلے طبری وابن ہشام حالات سریہ عبیدة الحارث : سورۃ النساء : ۷۶