سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 355 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 355

۳۵۵ دوسرے قبائل بھی اپنے اپنے قومی مصالح کے ماتحت جنگ میں شامل ہو جاتے تھے مثلاً اگر الف اورب میں جنگ شروع ہوئی تو علاوہ اس کے الف کے حلیف الف کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے اورب کے حلیف ب کے ساتھ۔ایسا بھی ہوتا تھا کہ دوران جنگ میں کوئی قبیلہ کسی وجہ سے الف کے ساتھ مل جاتا تھا اور کوئی دوسرا قبیلہ ب کے ساتھ ہو جاتا تھا اور اس طرح جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا تھا۔قریباً قریباً یہی صورت اسلامی جنگوں میں پیش آئی۔یعنی ابتداء مسلمانوں کو قریش مکہ کی طرف سے جنگ کا الٹی میٹم ملا جسے بالآخر انہوں نے مجبور ہوکر قبول کیا، لیکن بعد میں آہستہ آہستہ بہت سے دوسرے قبائل بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آتے گئے۔مثلاً قریش مکہ نے کسی دوسرے قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف اپنے ساتھ گانٹھ لیا تو مسلمانوں کی اس کے ساتھ بھی جنگ چھڑ گئی یا قریش کے نمونہ کو دیکھ کر کسی دوسرے قبیلہ نے خود بخود مسلمانوں کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کر دی تو اس سے بھی جنگ کا آغاز ہوگیا یا قریش کی ساز باز سے کسی حلیف قوم نے مسلمانوں سے دغا بازی کی تو اس طرح اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کی لڑائی ہوگئی۔وغیر ذالک۔الغرض جب جنگ کی آگ ایک دفعہ مشتعل ہوگئی تو اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔حتی کہ ایک تھوڑے عرصہ میں ہی عرب کی سرزمین کے بیشتر حصہ سے اس آگ کے شعلے بلند ہونے لگ گئے۔ابتدائی اسلامی جنگوں کے متعلق پوری بصیرت حاصل کرنے کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ مندرجہ بالا قرآنی آیات اور دیگر تاریخی روایات میں بھی اشارے کئے گئے ہیں یہ اسلامی جنگیں سب ایک قسم کی نہ تھیں بلکہ مختلف قسم کے اسباب کے ماتحت وقوع میں آئی تھیں مثلاً بعض لڑائیاں دفاع اور خود حفاظتی کی غرض سے تھیں یعنی ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کو کفار کے مظالم اور تباہی سے بچایا جاوے۔بعض قیام امن کے لئے تھیں یعنی ان کا مقصد ملک میں فتنہ کو دور کرنا اور امن کو قائم کرنا تھا۔بعض مذہبی آزادی کے قائم کرنے کی غرض سے تھیں۔بعض تعزیری رنگ رکھتی تھیں یعنی ان کی غرض و غایت کسی قوم یا قبیلہ یا گروہ کو ان کے کسی خطر ناک جرم یا ظلم و ستم یا دغا بازی کی سزاد یا تھی۔بعض سیاسی تھیں یعنی ان کا مقصد کسی معاہد قبیلہ کی اعانت یا اس قسم کا کوئی اور سیاسی تقاضا تھا اور بعض ایسی بھی تھیں جن میں ان اغراض و مقاصد میں سے ایک سے زیادہ اغراض مد نظر تھیں مثلاً وہ دفاعی بھی تھیں اور تعزیری بھی یا سیاسی بھی تھیں اور قیام امن کی غرض بھی رکھتی تھیں۔وغیر ذالک۔یہ ایک بڑا ضروری علم ہے جس کے نہ جاننے کی وجہ سے بعض مؤرخین نے ساری لڑائیوں کو ایک ہی غرض کے ماتحت لانے کی کوشش کی ہے اور پھر ٹھوکر کھائی اسلامی جنگوں کے اقسام