سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 347 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 347

۳۴۷ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا اور پورا کر واپنے عہد کو کیونکہ یقینا تمہیں اپنے عہد کے متعلق خدا کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔“ پھر فرماتا ہے: لَا يَنْهُكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا يَنْهُنَّكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قُتَلُوكُمْ في الدِيْنِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظُهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ O - : نہیں منع کرتا اللہ تم کو ان لوگوں سے جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں لڑائی نہیں کی اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یہ کہ تم ان سے مہربانی کا سلوک کرو اور ان سے عدل اور احسان سے پیش آؤ۔بیشک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے تم کو کہ دوست بناؤ ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارے خلاف دین کے معاملہ میں لڑائی کی اور تمہارے گھروں سے تمہیں نکالا یا تمہارے نکالے جانے میں اعانت کی۔اور جو کوئی دوستی لگائے گا ایسے دشمنوں کے ساتھ تو ایسے لوگ ظالموں میں سے سمجھے جائیں گے۔“ پھر فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى بلکہ تم الَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَO ”اے مومنو! چاہئے کہ تم دنیا میں خدا کے لئے عدل وانصاف کو قائم کرو اور چاہئے کہ ہرگز نہ آمادہ کرے تم کو کسی قوم کی دشمنی اس بات پر کہ تم اس کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش نہ آؤ یہ تمہیں چاہئے کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل وانصاف کا معاملہ کرو کیونکہ عدل وانصاف کرنا تقویٰ کا تقاضا ہے۔پس تم متقی بنو اور یا درکھ کہ اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔“ جہاد بالسیف کے متعلق بعض اصولی روایات یہ قرآن شریف کا بیان گزرا ہے اور گو قرآن کے بیان کے بعد کسی اور بیان کی حاجت نہیں ل : بنی اسرائیل : ۳۵ : ممتحنه : ۹ ، ۱۰ ۳: مائده : ۹