سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 346
۳۴۶ یہ آیت بھی اپنے معانی میں نہایت واضح ہے اور اس سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کا حکم صرف ان لوگوں کے خلاف دیا گیا تھا جو ان سے دین کے معاملہ میں جنگ کرتے تھے اور ان کو تلوار کے زور سے ان کے دین سے پھیرنا چاہتے تھے اور نیز یہ کہ مسلمانوں کو یہ بھی حکم تھا کہ اگر یہ کفار جنگ سے باز آجائیں تو تمہیں بھی چاہئے کہ فور آرک جاؤ اور اس آیت میں جنگ کی حکمت بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور مذہبی آزادی قائم ہو جاوے۔پھر فرماتا ہے: وَإِنْ جَنَحُوْ الِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اور اگر یہ کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو اے نبی تمہیں چاہئے کہ تم بھی صلح کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر توکل کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔“ پھر فرماتا ہے: وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلْمَ اللَّهِ ثُمَّ ابْلِغْهُ مَامَنَه - اور اگر کوئی مشرک تمہاری پناہ میں داخل ہو کر تمہارے پاس تحقیق دین کے لئے آنا چاہے تو اسے آنے دو اور پھر اپنی حفاظت میں اسے اس کی امن کی جگہ میں واپس پہنچادو۔“ پھر فرماتا ہے: وَالَّذِيْنَ أَمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَالَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقَ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيرٌ۔اور وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے ہیں مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی۔یعنی وہ تمہارے مصائب میں تمہارا ہاتھ نہیں بٹاتے وہ تمہاری سیاسی دوستی کے حقدار نہیں ہیں۔البتہ اگر وہ کسی دینی معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو مدد دو لیکن ان کفار کے خلاف تمہیں مدد دینے کی اجازت نہیں ہے جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو، اور اے مومنو! ہوشیار ہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“ : سورۃ انفال : ۶۲ : سورۃ توبہ : ۶ : انفال : ۷۳