سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 20 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 20

درایت کے کمزور پہلو یہ چار مثالیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں اور جو صرف نمونہ کے طور پر درج کی گئی ہیں ورنہ اس قسم کی مثالیں اسلامی تاریخ میں کثرت کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چار جلیل القدر صحابیوں کے فعل سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ ابتدائے اسلام سے ہی درایت کا پہلو روایت کے پہلو کے ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور مسلمان محققین پوری دیانتداری اور آزادی کے ساتھ درایت کے اصول کو اپنی روایات کی تحقیق اور پڑتال میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اسی قسم کی مثالیں بعد کے زمانوں کے متعلق بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر ہم اپنے اس مضمون کو زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ایک عقلمند انسان کے لیے اس قدر کافی ہے۔بہر حال میور صاحب اور ان کے ہم عقیدہ اصحاب کا یہ اعتراض بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ مسلمان محققین صرف روایت کے پہلو کود یکھتے تھے اور درایت سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا۔ہاں اگر ہمارے معترضین کا یہ منشاء ہے کہ ہر حال میں درایت کے پہلو کو ترجیح اور غلبہ ہونا چاہئے اور خواہ ایک بات اصول روایت کے لحاظ سے کیسی ہی پختہ اور مضبوط ہو وہ اگر درایت کے پہلو کے لحاظ سے مشکوک نظر آتی ہے تو بہر صورت اسے رد کر دینا چاہئے تو یہ خیال نہ صرف بالکل غلط ہے بلکہ علمی ترقی کے لیے بھی سخت مضر اور نقصان دہ ہے۔درایت خواہ کیسی ہی اچھی چیز ہومگر اس کے ساتھ دو خطر ناک کمزوریاں بھی لگی ہوئی ہیں۔اول یہ کہ اس کا تعلق استدلال کے ساتھ ہوتا ہے اور استدلال ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں اختلاف رائے کی بہت گنجائش ہے۔دوسرے یہ کہ درایت کی بنا زیادہ تر انسان کے سابقہ تجربہ اور معلومات پر ہوتی ہے اور تجربہ اور معلومات ایسی چیزیں ہیں کہ روز بدلتی رہتی ہیں کیونکہ ان میں ہر وقت وسعت اور ترقی کی گنجائش ہے۔ان وجوہ کی بنا پر درایت کے پہلو پر زیادہ بھروسہ کرنا اپنے اندر ایسے خطرات رکھتا ہے جنہیں کوئی دانا شخص نظر انداز نہیں کرسکتا۔مثلاً ایک شخص کسی روایت کو قرآن شریف کی کسی آیت کے خلاف سمجھ کر رڈ کر دیتا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرا شخص اُسے کسی قرآنی آیت کے خلاف نہ پائے بلکہ وہ دونوں کی ایسی تشریح کر دے کہ ان کے درمیان کوئی تضاد نہ رہے۔یا مثلاً ایک شخص ایک روایت کو کسی ثابت شدہ حقیقت کے خلاف سمجھتا ہے ،مگر ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے شخص کے نزدیک وہ چیز جسے ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھا گیا ہے وہ ثابت شدہ حقیقت نہ ہو۔یا ایک شخص ایک روایت کو انسانی تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف سمجھتا ہے ،مگر ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرا شخص جس کا تجربہ اور مشاہدہ زیادہ وسیع ہے وہ اسے اس کے خلاف نہ سمجھے وغیر ذالک۔ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ درایت کے پہلو پر زیادہ زور دینا نہ صرف اصولاً غلط ہے، بلکہ علمی ترقی کے لئے بھی ایک بہت بھاری روک