سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 19
۱۹ قبول نہیں کر لیتے تھے، بلکہ درایت و روایت ہر دو کے اصول کے ماتحت پوری تحقیق کر لینے کے بعد قبول کرتے تھے۔پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے: قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرُتُ ذَالِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللهُ عُمَرَ وَاللَّهِ مَاحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَكِنْ قَالَ إِنَّ اللهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَسْبُكُمُ الْقُرآنُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى دو یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ یہ روایت بیان کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت پر رونے سے میت پر عذاب ہوتا ہے۔ابنِ عباس کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی وفات کے بعد میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ سے بیان کی تو فرمانے لگیں۔اللہ تعالیٰ عمرہ پر رحم فرمائے۔خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہر گز نہیں فرمایا بلکہ یہ کہا تھا کہ ایک کافر کے مرنے کے بعد اگر اس کے ورثاء اس پر روئیں تو اس وجہ سے اس کا عذاب اور زیادہ ہو جاتا ہے۔( کیونکہ جب وہ زندہ تھا تو اس کے اس فعل میں ان کا مؤید ہوا کرتا تھا ) اور پھر حضرت عائشہ کہنے لگیں کہ ہمیں قرآن کا یہ قول کافی ہے کہ کوئی نفس دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔“ اس حدیث سے بھی درایت کے پہلو کا استعمال نمایاں طور پر ظاہر ہوتا ہے یعنی حضرت عائشہ نے حضرت عمر جیسے جلیل القدر انسان کی روایت کو صرف ایک بالمقابل روایت بیان کر دینے سے ہی رڈ نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی اپنے خیال میں اس کے غلط ہونے کی قرآن شریف سے ایک دلیل بھی دی۔ہمیں اس جگہ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آیا حضرت عائشہ کا خیال درست تھا یا کہ حضرت عمرؓ کا۔صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ الزام بالکل غلط ہے کہ مسلمان محققین صرف ایک روایت کو سُن کر اسے قبول کر لیتے تھے۔کیونکہ حق یہ ہے کہ وہ پوری طرح درایت کو کام میں لاتے اور ہر چیز کو اپنی عقل خدا داد کے ساتھ تول کر پھر قبول کرتے تھے اور اس بنا پر بعض اکابر صحابہ تک میں باہم اختلاف ہو جاتا تھا۔بخاری و مسلم بحواله مشکوة باب الْبُكَاءِ على الميت -