سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 330
۳۳۰ اِذْكَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلاً فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا يَقْتُلُوهُ وَإِمَّا يُوثِقُوهُ حَتَّى كَثُرَ الْإِسْلَامُ فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ ے یعنی یہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لڑ وان کفار سے جو تم سے لڑتے ہیں اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اس کے متعلق ابن عمر کہتے ہیں کہ ہم نے اس الہی حکم کی تعمیل یوں کی کہ جبکہ رسول اللہ کے زمانہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اور جو شخص اسلام لاتا تھا اسے کفار کی طرف سے دین کے راستے میں دکھ دیا جاتا تھا اور بعض کو قتل کر دیا جاتا تھا اور بعض کو قید کر دیا جاتا تھا۔پس ہم نے جنگ کیا اس وقت تک کہ مسلمانوں کی تعداد اور طاقت زیادہ ہو گئی اور نومسلموں کے لئے فتنہ نہ رہا۔اس واضح اور بین آیت اور اس واضح اور بین حدیث کے ہوتے ہوئے ذومعنین حدیث سے جبری اشاعت کی تعلیم ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہر گز دیانت داری کا فعل نہیں سمجھا جا سکتا۔صحابہ کی زندگیاں جبر کے خیال کی مکذب ہیں پھر چے ایمان کی بعض علامات ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے اور جو کبھی بھی اس شخص میں۔پیدا نہیں ہوسکتیں جو تلوار کے زور سے مسلمان بنایا گیا ہو۔مثلاً سچے ایمان میں محبت ہوتی ہے۔اخلاص ہوتا ہے، قربانی ہوتی ہے غیرت ہوتی ہے اور ناممکن ہے کہ یہ باتیں اس شخص میں پائی جائیں جس کا ایمان محض دکھاوے کا ایمان ہے اور جو صرف خوف کی وجہ سے کسی عقیدہ کا اظہار کرتا ہے مگر اس کا دل اس ایمان سے خالی ہوتا ہے۔پس ہمیں صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے اور پھر دیکھنا چاہئے کہ کیا ان کا حال ان لوگوں کا سا نظر آتا ہے جن کا مذہب تلوار کے زور سے تبدیل کیا گیا ہو؟ کیا ان کے ایمان میں محبت کی بو نہیں ؟ کیا ان کے دل اخلاص سے خالی نظر آتے ہیں؟ کیا ان میں قربانی کی روح نہیں پائی جاتی ؟ کیا ان میں غیرت کی کمی محسوس ہوتی ہے؟ اگر یہ نہیں اور ہر گز نہیں۔اور یہ سب علامات صحابہ میں موجود ہیں اور نہ صرف موجود ہیں بلکہ بدرجہ کمال پائی جاتی ہیں اور ان کی زندگیوں کاہر کارنامہ ان کے ایمان ان کے اخلاص اور اسلام کے لئے ان کی محبت اور قربانی اور غیرت پر شاہد ہے تو یہ کس قدر ظلم ہو گا کہ ان کے ایمان کی سچائی پر شبہ کیا جاوے۔دور نہ جاؤ عکرمہ بن ابو جہل کی ہی مثال لے لو۔باپ ابو جہل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کا پیاسا تھا اور اسی کوشش میں ہلاک ہوا۔خود عکرمہ کا یہ حال تھا کہ ہرلڑائی میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑا اور اسلام کو مٹانے کے لئے اس نے اپنی تمام کوشش صرف کر دی اور بالآخر جب مکہ فتح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کو اپنے لئے موجب ذلت سمجھ کر مکہ سے ل : بخاری کتاب التفسير سورة انفال: ۴۰