سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 318
۳۱۸ کی بات نہیں ، کوئی فکر کی بات نہیں۔جس پر لوگ واپس لوٹ آئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات بھی آپ جاگ رہے تھے اور جو نہی آپ نے شور کی آواز سنی آپ گھٹ ابوطلحہ والے گھوڑے پر سوار ہو کر اس طرف نکل گئے اور لوگوں کے روانہ ہوتے ہوتے پتہ لے کر واپس بھی آگئے۔قبائل عرب کی متحدہ مخالفت اور مسلمانوں کی نازک حالت قریش مکہ کے جن خونی ارادوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ صرف انہیں تک محدود نہ تھے بلکہ ہجرت کے بعد سے انہوں نے قبائل عرب میں مسلمانوں کے خلاف ایک باقاعدہ پراپیگنڈہ جاری کر رکھا تھا اور چونکہ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے ان کا سارے عرب پر ایک گہرا اثر تھا ، اس لئے ان کی اس انگیخت سے تمام عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا سخت دشمن ہورہا تھا۔قریش کے قافلوں نے تو گویا اپنا یہ فرض قرار دے رکھا تھا کہ جہاں بھی جاتے تھے راستہ میں قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف میں قریش کے ان اشتعال انگیز دوروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔بیچارے مسلمان جو اس وقت تک صرف قریش کے خیال سے ہی سہمے جاتے تھے اب بالکل ہی سراسیمہ ہونے لگے۔چنانچہ حاکم اور طبرانی کی مندرجہ ذیل روایت ان کی اس وقت کی مضطر بانہ حالت کا پتہ دیتی ہے۔لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ وَاوَتْهُمُ الْأَنْصَارُ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ وَكَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا بِالسَّلَاحِ وَلَا يَصْبَحُونَ إِلَّا فِيْهِ وَكَانُوا يَقُولُونَ اَلَا تَرَوْنَ أَنَّا نَعِيْشُ حَتَّى نَبِبَيْتُ امِنِينَ مُطْمَئِنِينَ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ د یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور انصار نے انہیں پناہ دی تو تمام عرب ایک جان ہو کر ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔اس وقت مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ رات کو بھی ہتھیار لگا کر سوتے تھے اور دن کو بھی ہتھیار لگائے رہتے تھے کہ کہیں کوئی اچانک حملہ نہ ہو جاوے اور وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ دیکھئے ہم اس وقت تک زندہ بھی رہتے ہیں یا نہیں جب ہم رات کو امن کی نیند سوسکیں گے اور سوائے خدا کے ہمیں اور کسی کا ڈر نہ ہوگا۔“ : مسلم کتاب الفصائل باب فی شجاعة النبی صلی اللہ علیہ وسلم : سورة آل عمران : ۱۹۷ : حاکم بحوالہ لُبَابُ التَّقُولِ فِي أَسْبَابِ النُّزُول زیرآیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ مَنُوا مِنْكُمْ