سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 311 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 311

۳۱۱ اول: جو پریشانی اور بے اطمینانی مہاجرین کے دلوں میں اس بے وطنی و بے سروسامانی کی حالت میں پیدا ہو سکتی تھی وہ اس سے بڑی حد تک محفوظ ہو گئے۔:دوم رشتہ داروں اور عزیزوں سے علیحدگی کے نتیجہ میں جس تکلیف کے پیدا ہونے کا احتمال تھا۔وہ ان نئے روحانی رشتہ داروں کے مل جانے سے جو جسمانی رشتہ داروں کی نسبت بھی زیادہ محبت کرنے والے اور زیادہ وفادار تھے پیدا نہ ہوئی۔سوم: انصار و مہاجرین کے درمیان جو محبت و اتحاد مذہبی اور سیاسی اور تمدنی لحاظ سے ان ایام میں ضروری تھا وہ مضبوط ہو گیا۔چہارم : بعض غریب اور بے کار مہاجرین کے لئے ایک سہارا اور ذریعہ معاش پیدا ہو گیا۔مدینہ کی سوسائٹی کی تقسیم اور یہود کے ساتھ معاہدہ یہ بتایا جاچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مدینہ کی آبادی دو حصوں میں منقسم تھی۔ایک تو بت پرست تھے جو قبائل اوس و خزرج میں منقسم تھے اور دوسرے یہود تھے جن کے تین قبائل کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔اسلام کی آمد نے ایک تیسری جماعت مسلمانوں کی پیدا کردی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس وقت مدینہ کی آبادی میں ایک اور فرقہ کا اضافہ ہوگیا جو منافقین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجو د مبارک ایک آسمانی بارش کے طور پر تھا۔جس کے نتیجہ میں زمین سے ہرقسم کی اچھی بُری روئیدگی نمودار ہونی شروع ہو جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مدینہ کی مسلمان آبادی بھی دوشاخوں میں منقسم ہو گئی اور مہاجرین و انصار کی اصطلاح کا آغاز ہو گیا۔اب گویا مدینہ میں مندرجہ ذیل فرقوں کا وجود پایا جاتا ہے۔اوّل: مسلمان جو دو شاخوں میں منقسم تھے۔(الف) مہاجرین جو عموماً مکہ کے رہنے والے تھے اور جو کفار کے مظالم سے تنگ آ کر اپنے وطن سے نکل آئے تھے۔(ب) انصار جو مدینہ کے باشندے تھے اور جنہوں نے اسلام اور بانی اسلام کی مدد اور حفاظت کا بیڑا اٹھایا تھا۔یہ لوگ قریباً سب کے سب اوس و خزرج کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔دوم منافقین یعنی اوس و خزرج کے وہ لوگ جو بظاہر مسلمان ہو گئے تھے مگر دل میں کافر تھے اور