سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 304
۳۰۴ علاوہ بھی کسی غرض کے لئے مسلمانوں کو مسجد میں جمع کرنا مقصود ہوتا تھا تو یہی ندا دی جاتی تھی۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد ایک صحابی عبداللہ بن زید انصاری کو خواب میں موجودہ اذان کے الفاظ سکھائے گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے اس خواب کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں ایک شخص کو اذان کے طریق پر یہ یہ الفاظ پکارتے سنا ہے۔آپ نے فرمایا یہ خواب خدا کی طرف سے ہے اور عبد اللہ کو حکم دیا کہ بلال کو یہ الفاظ سکھا دیں۔عجیب اتفاق یہ ہوا کہ جب بلال نے ان الفاظ میں پہلی دفعہ اذان دی تو حضرت عمرؓ اسے سن کر جلدی جلدی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آج جن الفاظ میں بلال نے اذان دی ہے بعینہ یہی الفاظ میں نے بھی خواب میں دیکھے ہیں۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے الفاظ سنے تو فرمایا کہ اسی کے مطابق وحی بھی ہو چکی ہے۔الغرض اس طرح موجودہ اذان کا طریق جاری ہو گیا اور جوطریق اس طرح جاری ہوا وہ ایسا مبارک اور دلکش ہے کہ کوئی دوسرا طریق اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔گویا ہر روز پانچ وقت اسلامی دنیا کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں ہر مسجد سے خدا کی تو حید اور محمد رسول اللہ کی رسالت کی آواز بلند ہوتی ہے اور اسلامی تعلیمات کا خلاصہ نہایت خوبصورت اور جامع الفاظ میں لوگوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ نماز جو اسلامی عبادات میں سب سے افضل رکعات نماز میں ایزادی عبادت سمجھی گئی ہے مکہ میں ہی فرض ہو چکی تھی لیکن اب تک سوائے نماز مغرب کے جس میں تین رکعات تھیں باقی تمام فرض نمازوں میں صرف دو دو رکعات تھیں لیکن ہجرت کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے حکم پاکر سفر کے لئے تو وہی دو دورکعات نماز رہنے دی لیکن حضر کے لئے سوائے نماز فجر اور مغرب کے جو اپنی پہلی صورت میں قائم رہیں باقی نمازوں میں چار چار رکعات فرض کر دیں اور اس طرح سفر و حضر کا امتیاز قائم ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم میں یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ اس کے تمام احکام میں میانہ روی کو اختیار کیا گیا ہے اور ان عملی مشکلات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے جو انسان کو اس کی زندگی میں پیش آتی رہتی ہیں۔چنانچہ نماز کے مسائل میں ہی بہت سے احکام ایسے پائے جاتے ہیں جو حالات کے اختلاف سے بدل جاتے ہیں مثلاً ل : ابوداؤ د ترندی وابن ماجہ تفصیلاً اور مؤطا امام مالک اجمالاً : زرقانی بروایت ابوداؤد وعبدالرزاق جلد اصفحه ۳۷۸