سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 303 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 303

٣٠٣ سرولیم میور اس مسجد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔گویہ مسجد سامان تعمیر کے لحاظ سے نہایت سادہ اور معمولی تھی لیکن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یہ مسجد اسلامی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتی ہے۔رسول خدا اور ان کے اصحاب اسی مسجد میں اپنے وقت کا بیشتر حصہ گزارتے تھے۔یہیں اسلامی نماز کا با قاعدہ باجماعت صورت میں آغاز ہوا۔یہیں تمام مسلمان جمعہ کے دن خدا کی تازہ وحی کو سننے کے لئے مؤدبانہ اور مرعوب حالت میں جمع ہوتے تھے۔یہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی فتوحات کی تجاویز پختہ کیا کرتے تھے۔یہی وہ ایوان تھا جہاں مفتوح اور تائب قبائل کے وفود ان کے سامنے پیش ہوتے تھے۔یہی وہ دربار تھا جہاں سے وہ شاہی احکام جاری کئے جاتے تھے جو عرب کے دور دراز کونوں تک باغیوں کو خوف سے لرزا دیتے تھے اور بالآخر اسی مسجد کے پاس اپنی بیوی عائشہ کے حجرے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی جان دی اور اسی جگہ اپنے دو خلیفوں کے پہلو بہ پہلو وہ مدفون ہیں۔14 یہ مسجد اور اس کے ساتھ کے حجرے کم و بیش سات ماہ کے عرصہ میں تیار ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نئے مکان میں اپنی بیوی حضرت سودہ کے ساتھ تشریف لے گئے۔بعض دوسرے مہاجرین نے بھی انصار سے زمین حاصل کر کے مسجد کے آس پاس مکانات تیار کر لئے اور جنہیں مسجد کے قریب زمین نہیں مل سکی انہوں نے دور دور مکان بنالئے اور بعض کو انصار کی طرف سے بنے بنائے مکان مل گئے تھے۔ابھی تک نماز کے لئے اعلان یا اذان وغیرہ کا انتظام نہیں تھا۔صحابہ عموماً وقت ابتدائے اذان کا اندازہ کر کے خود نماز کے لئے جمع ہو جاتے تھے لیکن یہ صورت کوئی قابل اطمینان نہیں تھی۔اب مسجد نبوی کے تیار ہو جانے پر یہ سوال زیادہ محسوس طور پر پیدا ہوا کہ کس طرح مسلمانوں کو وقت پر جمع کیا جاوے۔کسی صحابی نے نصاری کی طرح ناقوس کی رائے دی۔کسی نے یہود کی مثال میں بوق کی تجویز پیش کی۔کسی نے کچھ کہا مگر حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کر دیا جاوے کہ وہ نماز کے وقت یہ اعلان کر دیا کرے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرمایا اور حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس فرض کو ادا کیا کریں ہے چنانچہ اس کے بعد جب نماز کا وقت آتا تھا بلال بلند آواز سے الصلوةُ جَامِعَةٌ کہ کر پکارا کرتے تھے اور لوگ جمع ہو جاتے تھے بلکہ اگر نماز کے لے : لائف آف محمد مصنفہ سرولیم میور : بخاری کتاب الاذان