سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 299
۲۹۹ دفیں بجا بجا کر یہ شعر گارہی تھیں۔نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي نَجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّداً مِنْ جَارٍ یعنی ہم قبیلہ بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اور ہم کیا ہی خوش قسمت ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محلہ میں ٹھہرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔بنو نجار میں پہنچ کر پھر یہ سوال در پیش تھا کہ آپ کس شخص کے ہاں مہمان ٹھہریں۔قبیلہ کا ہر شخص خواہشمند تھا کہ اسی کو یہ فخر حاصل ہو بلکہ بعض لوگ تو جوش محبت میں آپ کی اونٹنی کی باگوں پر ہاتھ ڈال دیتے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر آپ نے فرمایا۔” میری اونٹنی کو چھوڑ دو کہ یہ اس وقت مامور ہے۔یعنی جہاں خدا کا منشا ہوگا وہاں یہ خود بیٹھ جائے گیا ور یہ کہتے ہوئے آپ نے بھی اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔اونٹنی آگے بڑھی اور تھوڑی دور خراماں خراماں چلتی ہوئی جب اس جگہ میں پہنچی جہاں بعد میں مسجد نبوی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرات تعمیر ہوئے اور جو اس وقت مدینہ کے دو بچوں کی افتادہ زمین تھی تو بیٹھ گئی لیکن فوراً ہی پھر اٹھی اور آگے کی طرف چلنے لگی۔مگر چند قدم چل کر پھر لوٹ آئی اور اسی جگہ جہاں پہلے بیٹھی تھی دوبارہ بیٹھ گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا هذَا إِنْ شَاءَ اللهُ المَنْزِلُ یعنی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی منشاء میں یہی ہماری مقام گاہ ہے۔اور پھر خدا سے دعا مانگتے ہوئے اونٹنی سے نیچے اتر آئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے آدمیوں میں سے یہاں سے قریب ترین گھر کس کا ہے ابوایوب انصاری فورا لپک کر آگے ہو گئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میرا ،، ہے اور یہ میرا دروازہ ہے۔تشریف لے چلئے۔آپ نے فرمایا۔”اچھا جاؤ اور ہمارے لئے کوئی ٹھہرنے کی جگہ تیار کرو۔“ ابوایوب انصاری فوراً اپنے مکان کو ٹھیک ٹھاک کر کے آگئے اور آنحضرت صلی اللہ قیام دارابی ایوب علیہ وسلم ان کے ساتھ اندر تشریف لے گئے۔یہ مکان دومنزلہ تھا۔ابوایوب چاہتے تھے کہ آپ اوپر کی منزل میں قیام فرما ئیں لیکن آپ نے اس خیال سے کہ ملاقات کے لئے آنے والے لوگوں کو آسانی رہے نچلی منزل کو پسند فرمایا اور وہاں فروکش ہو گئے۔رات ہوئی تو ابو ایوب اور ان کی بیوی کوساری رات اس خیال سے نیند نہیں آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے ہیں اور ہم آپ کے اوپر : بخاری کتاب الحجرت۔بخاری میں اونٹنی کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں ہوا مگر یہ ذکر موجود ہے کہ مسجد والی جگہ میں اونٹنی خود بخود آ کر بیٹھ گئی تھی جس پر آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ یہی ہماری منزل ہے۔باقی تفصیل کتب سیر میں ہے۔: مسلم جلد ۲ صفحہ ۹۷ اوا بن ہشام