سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 297
۲۹۷ شک نہیں ہے کہ گو اس سے پہلے بھی بعض مسجد میں مسلمانوں نے بنائی تھیں لیکن یقیناً قبا کی مسجد اسلام میں وہ پہلی مسجد تھی جس کی بناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے تکمیل ہجرت کے بعد پہلے دن رکھی گئی اور جسے مسلمانوں نے گویا ایک قومی عبادت گاہ کے طور پر تعمیر کیا۔یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرتے ہوئے اپنی جگہ حضرت علیؓ کو چھوڑ آئے تھے اور ان کو تاکید فرما آئے تھے کہ امانتیں وغیرہ واپس کر کے بہت جلد مدینہ پہنچ جائیں۔چنانچہ ابھی آپ کو قبا میں تشریف لائے صرف تین دن ہی ہوئے تھے کہ حضرت علی بھی مع الخیر قبا میں پہنچ گئے لیکن ابھی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت مکہ میں ہی تھے۔ورود مدینہ اور جمعہ کی پہلی نماز غالبا ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں ہی مقیم تھے کہ مسلمانان مدینہ میں اس بات کے متعلق گفتگو شروع ہوئی کہ مدینہ میں آپ کس کے ہاں قیام فرما ہوں گے۔ہر ایک خاندان یہ چاہتا تھا کہ اسے آپ کی میزبانی کا فخر حاصل ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ اختلاف پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میں عبدالمطلب کے ننھیال بونجار کے ہاں ٹھہروں گا۔یہ ایک نہایت حکیمانہ فیصلہ تھا جس سے آپ نے انصار کے مختلف قبائل میں نا واجب جذبات رقابت کے پیدا ہونے کا سد باب فرما دیا اور آپ کے اس ارشاد پر سب کی تسلی ہوگئی کیونکہ گوایمان وا خلاص میں سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھے لیکن بنوسنجار کو یہ ایک مزید اور مسلّم خصوصیت حاصل تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی والدہ سلمی اسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔قبا میں زائد از دس دن کے قیام کے بعد جمعہ کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اندرونی حصہ کی طرف روانہ ہوئے۔انصار و مہاجرین کی ایک بڑی جماعت آپ کے ساتھ تھی۔آپ ایک اونٹنی پر سوار تھے اور حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے تھے۔یہ قافلہ آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔راستہ میں ہی نماز جمعہ کا وقت آگیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سالم بن عوف کے محلہ میں ٹھہر کر صحابہ کے سامنے خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز ادا کی۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ گو اس سے پہلے جمعہ کا آغاز ہو چکا تھا۔کے مگر یہ پہلا جمعہ تھا جو آپ نے خود ادا کیا۔اور اس کے بعد سے جمعہ کی نماز کا طریق با قاعدہ جاری ہو گیا۔2 : مسلم باب الحجرت : ابوداؤ دباب الجمعہ فی القریٰ سے : بخاری باب البجرت عن عائشہ : ابن ہشام ذکر ہجرت