سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 288
۲۸۸ عمل نہیں کر سکا۔تحقیق و تدقیق کی جہت سے مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔یہ میدان اس قدر وسیع ہے کہ اگر اسے ایک نہ ختم ہونے والا میدان کہ سکیں تو بے جانہ ہوگا۔میرے اپنے احساس کا یہ حال ہے کہ جب بھی میں نے سیرت کے مسودے کی نظر ثانی کی ہے مجھے اس میں قریباً ہمیشہ ہی تحقیق کے لئے ایک نیا دروازہ نظر آیا ہے اور بعض حصے تو یقیناً ایسے ہیں کہ ان میں مزید تحقیق کی ضرورت عیاں ہے مگر فی الحال جو کچھ بھی ہے وہ ہد یہ ناظرین ہے اور خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اسے قبولیت کا شرف عطا کرے اور اس کے ذریعہ سے اس مقصد کو پورا فرمائے جو اس کی تصنیف کی اصل غرض و غایت ہے۔اللھم آمین۔حصہ دوم کے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہوگی کہ حصہ اوّل کی نسبت اس حصہ میں چار زائد خصوصیات ہیں: اول زیادہ تحقیق و تدقیق۔دوم زیادہ تفصیل و تشریح۔سوم بہت سے شکمی اور ضمنی مسائل کی بحث۔چہارم حوالہ جات کا اندراج۔ان خصوصیات کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اگر اور جب حصہ اوّل کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو اسے ان مزید خصوصیات کی روشنی میں نظر ثانی کرنے کے بعد شائع کیا جاوے ورنہ یہ دونوں حصے بالکل غیر مربوط نظر آئیں گے۔جن کتب سے میں نے حصہ دوم کی تیاری میں استفادہ کیا ہے ان کا اندازہ صرف ان اسماء سے نہیں لگ سکتا جو حوالہ کی صورت میں حاشیہ میں درج ہوئے ہیں۔بالعموم متاخرین کی کتب کے حوالے درج نہیں کئے گئے کیونکہ جب بھی مجھے ان کتب میں کوئی نئی یا مفید بات ملی ہے تو میں نے بجائے ان کتب کا حوالہ دینے کے ان کے ماخذ کی طرف رجوع کر کے اصل کتاب کا حوالہ درج کر دیا ہے مگر ظاہر ہے کہ اس وجہ سے متاخرین کی کتب کی طرف سے میرے جذ بہ تشکر میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ممکن ہے کہ بعض طبائع میں یہ سوال پیدا ہو کہ مولانا شبلی کی سیرت کے ہوتے ہوئے اس تصنیف کی کیا ضرورت تھی ؟ اس سوال کا اصل جواب تو ہر دو کتب کے مطالعہ سے ہی مل سکتا ہے لیکن میں اس قد رعرض کرنا لمصنفین ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے سیرۃ النبی کی خوبیوں کا اعتراف ہے اور میں نے بعض جگہ اس سے اور دارا کی دوسری تصنیفات سے فائدہ بھی اٹھایا ہے مگر تحقیق کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے اور پھر ہر شخص کا نقط نظر اور اسلوب بیان بھی جدا ہوتا ہے اس لئے میری یہ ناچیز کوشش کسی کے ناگوار خاطر نہیں ہونی چاہئے بلکہ اگر کل کو کوئی اور شخص اپنی کوئی جدید تحقیق یا کوئی جدید نقط نظر اور جدید اسلوب بیان دنیا کے سامنے پیش کرے تو یقینا اسلامی لٹریچر کی یہ ایک مزید خوش قسمتی ہوگی۔ولكل امرء مانوی و انما الاعمال بالنيات