سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page iii
پیش لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح پر آج تک ہزاروں کتب لکھی گئی ہیں لیکن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی تصنیف سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اس لحاظ سے منفرد اور ممتاز ہے کہ اس میں تمام واقعات کی صحت کا مدار سب سے اوّل قرآن کریم اور دوسرے نمبر پر صحاح ستہ پر رکھا گیا ہے اور کتب تاریخ میں متاخرین کی بجائے ابتدائی مؤرخین اور سیرت نگاروں سے استفادہ کیا گیا ہے۔اس لحاظ سے یہ غیر مستند مواد سے پاک ہے اور اس کی صحت اور مستند ہونے پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔حضرت میاں صاحب نے اپنی اس تصنیف میں اس امر کا خاص طور پر اہتمام فرمایا ہے کہ مغرب کے متعصب مستشرقین نے جن مقامات پر تاریخ اسلام کے بعض واقعات کو قابل اعتراض ٹھہرایا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کردارکشی کی کوشش کی ہے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی روشنی میں ان کا رد فرمایا ہے۔آپ نے اپنی اس کتاب میں علاوہ تاریخی مواد کے آج کل زیر بحث آنے والے بہت سے علمی مسائل مثلاً جمع و ترتیب قرآن کریم معجزہ کی حقیقت ، جہاد بالسیف، غیر مسلموں سے رواداری، جزیہ ، غلامی ، عورتوں کے حقوق، تعدد ازدواج ، شادی اور طلاق کے متعلق اسلامی قوانین اور اسلام کی عادلانہ جمہوری طرز حکومت پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔حضرت میاں صاحب نے کمال عشق اور محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور کردار کو موجودہ دور کے ذوق کے مطابق انتہائی دلنشین رنگ میں پیش فرمایا ہے اور فرط عقیدت کے باوجو دسند اور درایت کے لحاظ سے ضعیف روایات کو اس مجموعہ میں راہ نہیں پانے دی اور واقعات کومستند ماخذ سے ان کے صحیح تناظر میں پیش فرمایا ہے۔انہی خصوصیات کی بناپر یہ تصنیف بہت مقبول ہوئی۔حضرت مصلح موعود خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق فرمایا : میں سمجھتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی سیر تیں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے