سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page iv of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page iv

یہ بہترین کتاب ہے۔اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پر تو ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئے۔اس کے ذریعہ انشاء اللہ اسلام کی تبلیغ میں بہت آسانی پیدا ہو جائے گی“۔سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا موجودہ ایڈیشن ان تین جلدوں پر مشتمل ہے جو ۱۹۲۰ء، ۱۹۳۱ء اور ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی تھیں ( پہلی جلد پر حضرت میاں صاحب نے بعد میں نظر ثانی بھی فرمائی تھی )۔اس طرح یہ مجموعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر ے ہجری تک کے حالات پر مشتمل ہے۔افسوس ہے کہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ با وجود انتہائی خواہش کے اپنی زندگی میں اس مہتم بالشان علمی شاہکار کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔حضرت میاں صاحب نے سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حصہ کے لئے مجوزہ عنوانات بھی اپنے مخصوص انداز میں مرتب فرما کر شائع کر دیے تھے۔یہ عنوانات بھی موجودہ ایڈیشن میں شامل کر دئے گئے ہیں۔اس کام کی تکمیل جماعت کے تعلیم یافتہ طبقہ پر ایک قرض ہے۔خدا تعالیٰ کرے کہ ہم اس کو ادا کرسکیں۔حضرت میاں صاحب نے اس گرانقدر تصنیف کو محض ایک تاریخ کی حیثیت سے نہیں لکھا بلکہ آپ کا اوّل ترین مقصد اس سے یہ تھا کہ قوم کے نوجوان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیں۔آپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے اللہ ! تو اپنے فضل سے ایسا کر کہ تیرے بندے اسے پڑھیں اور اس سے فائدہ اُٹھائیں اور تیرے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونہ پر چل کر تیری رضا حاصل کریں۔جماعت کے ہر فرد کو یہ کتاب پڑھ کر حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کی اس نیک خواہش کو پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے اور دوسروں کو اسے تحفہ میں دینا چاہئے کیونکہ یہ تصنیف ایک مثبت دلیل ہے اس عقیدہ وارادت کی جو جماعت احمدیہ کا ہر فر دحضرت خاتم النبیین محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رکھتا ہے۔آخر میں ان واقف زندگی کا ذکر ضروری ہے جنہوں نے اس ایڈیشن کی تیاری میں مختلف خدمات سرانجام دی ہیں۔سلطان احمد شاہد اور مقصود احمد قمر۔احباب انہیں بھی اور خاکسار کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔