سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 281 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 281

۲۸۱ کی تاریکیوں سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آجائیں مگر ان مصائب کے طوفان کے سامنے ایمان کی چنگاری ان کے قلوب میں چمک چمک کر بجھ بجھ جاتی تھی۔پھر بہتیرے ایسے بھی تھے جن کو ان مصائب کے منظر نے اسلام کی طرف توجہ کرنے سے ہی روک رکھا تھا۔علاوہ ازیں قریش کے مظالم کا ایک یہ بھی اثر تھا کہ مسلمان پوری طرح اپنے عقائد کی تبلیغ نہیں کر سکتے تھے اور چونکہ جتنی تبلیغ زیادہ ہو اسی نسبت سے پیغام حق زیادہ لوگوں تک پہنچتا ہے اور پھر اسی نسبت سے ماننے والے بھی زیادہ نکل آتے ہیں۔اس لیے بھی مکہ میں مسلمانوں کی تعداد جلد جلد ترقی نہیں کرسکی۔مسلمان ان رکاوٹوں کو محسوس کرتے تھے اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر رہ جاتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عبدالرحمن بن عوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ "یا رسول اللہ ! جب ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے اور کوئی شخص ہماری طرف آنکھ تک نہیں اٹھا سکتا تھا۔لیکن مسلمان ہو کر ہم کمزورونا تو اں ہو گئے ہیں اور ہمیں ذلیل ہو کر رہنا پڑتا ہے۔پس آپ ہمیں ظالموں کے مقابلہ کی اجازت دیں۔آپ نے فرمایا: إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا مجھے ابھی تک عضو کا حکم ہے۔اس لیے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“ اپنے آقا کے اس حکم پر مسلمانوں نے ہاں انہی شیر دل مسلمانوں نے جنہوں نے اس کے چند سال بعد قیصر و کسریٰ کے تخت اُلٹ کر رکھ دیئے جس صبر ورضا کے ساتھ ان مظالم کو برداشت کیا اس کی کسی قدر تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مکہ میں مسلمانوں کا کفار کے مقابلہ میں تلوار نہ اٹھانا اور خاموشی اور صبر کے ساتھ ان مظالم کو برداشت کرنا اس وجہ سے نہیں تھا جیسا کہ بعض مخالفین نے سمجھا ہے کہ وہ کمزور تھے اور مقابلہ کی طاقت نہ رکھتے تھے بلکہ اس لیے تھا کہ ابھی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عفو کا حکم تھا اور صحابہ کو مقابلہ کی اجازت نہیں تھی لیکن جب اتمام حجت ہو چکا اور کفار اپنے مظالم سے باز نہ آئے بلکہ دن بدن زیادہ شوخ اور زیادہ متمرد ہوتے گئے اور انہوں نے اسلام کے پودے کو جڑ سے اکھیڑ پھینکنے کی ٹھان لی اور ہجرت کے بعد بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا تو باوجود اس کے کہ اس وقت بھی آپ کے پاس عرب کے مقابلہ کے لیے قطعا کوئی جمعیت نہ تھی آپ نے وہی مٹھی بھر جماعت لے کر ان کا مقابلہ کیا اور چونکہ اللہ کی نصرت آپ کے شامل حال تھی آپ اس مقابلہ میں کامیاب ہوئے۔ے نسائی