سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 280
۲۸۰ عورتیں اور بچے سب شامل ہیں۔گویا قریش مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ کوششوں کا نتیجہ یہی تین سو جانیں تھیں اور یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ ان میں سے کثیر تعداد ان لوگوں کی تھی جو اپنی کم سنی یا مفلسی یا کسی اور وجہ سے قریش میں کوئی اثر ورسوخ نہیں رکھتے تھے۔قریش کے علاوہ دیگر قبائل عرب میں سے مسلمان ہونے والوں کی تعداد اہل میثرب کو الگ رکھتے ہوئے بہت ہی کم نظر آتی ہے۔ہاں یثرب میں البتہ جلد جلد اسلام پھیلا اور قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ہجرت نبوی سے پہلے مدینہ والوں میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد بشمولیت زن و فرزندکئی سو تک ضرور پہنچ چکی ہوگی۔اس طرح گویا ہجرت تک کل مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ قریباً ایک ہزار بنتی ہے۔جن میں اگر عورتوں اور بچوں کو الگ الگ رکھیں تو بالغ مرد شاید تین چار سو ہوں گے لیکن یہ بھی ہجرت کے بعد سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں موجود نہیں تھے بلکہ کچھ متفرق طور پر اپنے اپنے قبائل میں تھے۔کچھ حبشہ میں تھے اور کچھ ہجرت کی طاقت نہ رکھنے والے ابھی تک مکہ میں ہی قریش کے مظالم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔اس قلیل نفری کے ساتھ اسلام مذاہب عالم کی جولانگاہ میں بازی لے جانے کا دعوی بھرتا ہوا قدم زن ہورہا تھا۔قریش کی ایذا رسانیوں کا اثر مسلمانوں پر قریش کے مظالم کی مختصر کیفیت اوپر بیان ہو چکی ہے۔ان مصائب پر مسلمانوں نے صبر اور برداشت کا جو اعلیٰ نمونہ دکھایا وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے۔صحیح روایات سے ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی شخص نے ان مصائب سے ڈر کر ارتداد کی راہ اختیار کی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں بلا شبہ ہم کو بعض مرتدین نظر آتے ہیں اور دراصل ارتداد کا سلسلہ ایک حد تک ہر نبی کے زمانہ میں پایا جاتا ہے لیکن آپ کی مکی زندگی میں محض مصائب کے ڈر کی وجہ سے کسی مسلمان کے حقیقی ارتداد کا ذکر کم از کم مجھے کسی صحیح روایت میں نہیں ملا۔اس کی یہ وجہ تھی کہ چونکہ قریش کے یہ مظالم بر ملا ہوتے تھے اور ہر شخص مسلمانوں کے مصائب و آلام سے آگاہ تھا اس لئے اس زمانہ میں جو بھی ایمان لاتا تھا وہ اس بات کے فیصلہ کے بعد اسلام لاتا تھا کہ مجھے حق کی راہ میں جتنی بھی تکالیف سہنی پڑیں وہ میں برداشت کروں گا۔اس لیے مسلمان ہونے کے بعد یہ مصائب کسی شخص کو اسلام سے پھیر نہیں سکتے تھے مگر وقتی طور پر ان مصائب کا ایک ضرر رساں اثر ضرور تھا اور وہ یہ کہ بہت سے ایسے لوگ تھے جو ان مصائب کی وجہ سے اسلام لانے کی جرات نہیں کر سکتے تھے۔ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کا اثر پہنچتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ شرک و بت پرستی