سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 279
۲۷۹ بہت ناراض ہوئے اور حضرت موسی کی ایک فضیلت بیان کر کے اس یہودی کی دلداری فرمائی یا لیکن پھر ایک وقت آیا کہ آپ نے خود فر مایا کہ: لَوْ كَانَ مُوسَىٰ وَعِيْسَىٰ حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِي د یعنی اگر اس وقت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو اُن کو بھی بجز میری پیروی کے چارہ نہ تھا۔“ پھرا اوائل میں جب کسی صحابی نے آپ کو خیر البریہ یعنی افضل الخلق کہہ کر پکارا تو آپ نے اُسے روکا اور فرمایا ذَالِكَ إِبْرَاهِیم، یعنی افضل الخلق تو ابراہیم تھے۔نیز فرمایا ” مجھے یونس بن مٹی پر فضلیت لیکن پھر خود فر مایا کہ اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ - یعنی میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں مت دو۔" مگر اس وجہ سے میں اپنے اندر کوئی تکبر نہیں پاتا۔یہ گویا ارتقاء علمی تھا کیونکہ آپ افضل الرسل اور سید ولد آدم تو اوائل سے ہی تھے مگر اس کا انکشاف آپ پر آہستہ آہستہ ہوا اور یہ بھی درست ہے کہ آپ کے مدارج میں بھی آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی تھی۔کی زندگی میں اشاعت اسلام بعثت کے بعد جوقریباً تیرہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں گذارے اُن میں اسلام سرزمین عرب میں گو جڑ پکڑ چکا تھا اور قریش مکہ سے باہر بھی اس کا اثر پہنچ چکا تھا؛ چنانچہ ابوذر غفاری، عبداللہ بن مسعود ھذیلی ، ضماد بن تقلبه از دی ، ابو موسی اشعری طفیل بن عمرو دوسی ، سعد بن معاذ اوسی ، سعد بن عبادہ خزرجی وغیرہ کئی غیر قبائل کی مثالیں موجود ہیں جو اس زمانہ میں اسلام لائے ، مگر اس میں شک نہیں کہ ابھی تک اسلام ایک نہایت کمزور حالت میں تھا اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے ان مخالف عناصر کے مقابلہ میں جن کا اسے سامنا تھا اس کی زندگی خطرہ سے باہر نہیں تھی۔قریش مکہ میں سے ہجرت نبوی تک اسلام لانے والوں کی تعداد صحیح طور پر معلوم نہیں ہے اور نہ کسی روایت میں بیان ہوئی ہے لیکن قرائن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قریش اور ان کے متعلقین میں سے ہجرت تک مسلمان ہونے والوں کی تعداد تین سونفوس سے کسی صورت میں زیادہ نہیں ہوگی۔اس تعداد میں : بخاری کتاب بدء الخَلَقَ بَابِ وَإِنَّ يُوْنَسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ : تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحه ۲۴۶ زیر آیت وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ : مسند احمد جلدا : بخاری کتاب بدء الخلق ۵: ترمذی وابن ماجه