سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 278 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 278

۲۷۸ ہو گئے اور یہ خوف واضطراب آپ کو ایک عرصہ تک تکلیف دیتا رہا۔حتی کہ اس ربانی رسول کے بار بار آپ کے پاس آنے اور آپ کو تسلی دینے کے بعد آپ کو پورا پورا سکون حاصل ہوا۔اس اطمینان کے بعد آپ نے اپنا کام شروع فرمایا مگر اس میں بھی تدریجی ترقی کا پہلو موجود تھا۔پہلے پہل آپ نے عام تبلیغ شروع نہیں کی بلکہ صرف اپنے دوستوں اور عزیزوں تک تبلیغ کا کام محدود رکھا اور اڑھائی تین سال تک صرف خفیہ طور پر فرض تبلیغ ادا فرماتے رہے اس کے بعد آپ نے الہی حکم کے تحت کھلی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا مگر اس زمانہ میں بھی آپ کے کام کا دائرہ عموماً مکہ والوں تک محدود رہا۔بے شک باہر سے آنے والوں کے لیے بھی پیغام حق کا دروازہ کھلا تھا اور مسیح ناصری کی طرح متلاشیان حق سے یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ ”میں بچوں کا کھانا کتوں کے آگے کیونکر ڈال دوں۔مگر اوائل میں آپ کا اصل روئے سخن قریش مکہ کی طرف تھا اور وہی اصل زیر تبلیغ تھے اور یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا لیکن جب مکہ والوں نے نہ صرف انکار پر اصرار کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو سخت سے سخت مظالم کا تختہ مشق بنایا بلکہ اس بات کا بھی عہد کر لیا کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھا جائے اور عملاً اپنے اوپر تبلیغ اسلام کا دروازہ بند کر لیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی توجہ مکہ والوں سے ہٹا کر دیگر قبائل عرب کی طرف پھیر لی۔طائف کا سفر اسی تبدیلی کا نتیجہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں قریش مکہ میں سے ایمان لانے والوں کی تعداد بہت ہی کم نظر آتی ہے اور ان کی جگہ دیگر قبائل عرب میں اسلام زیادہ پھیلتا نظر آتا ہے۔یثرب کے قبائل اوس اور خزرج اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ہجرت کے بعد یہود اور نصاریٰ کے ساتھ معاملہ پڑا اور زینہ تبلیغ کی آخری سیڑھی اس وقت ختم ہوئی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاطین عجم کے نام تبلیغی مراسلات بھیجے اور اسود واحم کو پیغام شروع ہوا۔اپنے مقام کے متعلق بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تدریجاً انکشاف ہوا چنا نچہ شروع شروع میں تو آپ کی وحی میں آپ کے متعلق نبی اور رسول کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔صرف ایک عمومی رنگ میں تبلیغ حق کا حکم تھا اور جب نبوت اور رسالت کے مقام کا اظہار ہوا تو اس کے بعد بھی آپ ایک عرصہ تک اپنے آپ کو صرف یکے از انبیاء خیال فرماتے رہے اور بس۔اپنی فضیلت اور ختم نبوت کے متعلق قطعا کوئی دعویٰ نہ تھا بلکہ ہجرت کے بعد تک یہ حال تھا کہ اگر کوئی صحابی اپنے جوش عقیدت میں آپ کو دیگر انبیاء پر افضل قرار دیتا تھا تو آپ اسے سختی کے ساتھ روک دیتے تھے ، چنانچہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ مدینہ میں ایک دفعہ ایک صحابی نے ایک یہودی کے سامنے حضرت موسی " پر آپ کی فضیلت بیان کی تو آپ اس صحابی پر