سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 270 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 270

۲۷۰ مکی زندگی پر ایک سرسری نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے پہلے دور یعنی قبل از بعثت زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے جو قلت واقعات کی شکایت ہم نے بیان کی تھی وہ آپ کی زندگی کے دوسرے دور میں بھی پوری طرح دور نہیں ہوئی۔یہ درست ہے کہ ماموریت کے دعوئی کے بعد ایسے لوگ موجود تھے جن کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک نمونہ کا حکم رکھتی تھی اور جو آپ کی تمام حرکات وسکنات کو غور کی نظر سے مطالعہ کرتے تھے اور ہر وقت آپ کی صحبت میں رہنے کے خواہشمند تھے مگر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں قریش کے مظالم نے مکہ میں مسلمانوں کو کبھی بھی اکٹھا نہیں ہونے دیا اور کبھی بھی ان کو اتنی فرصت اور موقع نہیں دیا کہ وہ اپنے آقا کی صحبت میں رہ کر اس کی زندگی کے تمام حالات کو آنے والی نسلوں کے لیے بالتفصیل محفوظ کر دیں۔باایں ہمہ بعثت سے قبل اور بعد کی زندگی کے حالات میں ایک بہت نمایاں فرق نظر آتا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ مدنی زندگی کے حالات میں یہ فرق بہت ہی نمایاں ہو جائے گا کیونکہ مدینہ میں صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے اور آپ کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے کا ہر وقت موقع ملتا تھا اور انہوں نے بھی جس تفصیل اور بسط کے ساتھ اس زمانہ کے متعلق آپ کے سوانح کو ہم تک پہنچایا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں انبیاء گذرے ہوں گے مگر جس تفصیل اور بسط کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات تاریخ و حدیث میں محفوظ ہیں اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے نبی کے متعلق میسر نہیں۔خدا ہزار ہزار رحمتیں نازل فرمائے صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کی مقدس جماعت پر جس کے طفیل آج بھی جب کہ ساڑھے تیرہ سوسال کا عرصہ آپ کی وفات پر گذر چکا ہے آپ کی جیتی جاگتی تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہر قدم پر آپ کے پاک نمونہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔قیام مکہ اور سنین نبوی و ہجری بعثت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں قریباً تیرہ سال ٹھہرے۔بعض روایات میں دس سال بیان کئے گئے ہیں۔یہ بھی