سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 266 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 266

۲۶۶ ،، تصدیق پائی جاتی ہے۔اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آپ رات کو روانہ ہوئے ہوں۔بہر حال غار ثور سے نکل کر آپ ایک اونٹنی پر جس کا نام بعض روایات میں القصوا بیان ہوا ہے ،سوار ہو گئے اور دوسری پر حضرت ابو بکر اور اُن کا خادم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے یے روانہ ہوتے ہوئے آپ نے مکہ کی طرف آخری نظر ڈالی اور حسرت کے الفاظ میں فرمایا۔اے مکہ کی بستی تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اس وقت حضرت ابو بکر نے کہا۔ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے۔اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔چونکہ ابھی تک تعاقب کا ڈر تھا اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اصل راستہ چھوڑ کر ساحل سمندر کے قریب قریب یثرب کی طرف روانہ ہوئے اور برابر ایک رات اور دوسرے دن کا کچھ حصہ چلتے رہے۔دوسرے دن دوپہر کے قریب جب سورج کی گرمی تیز ہوئی تو حضرت ابوبکر کے عرض کرنے پر آپ ایک بڑے پتھر کے سایہ میں آرام فرمانے کے لیے اترے۔حضرت ابو بکر نے آگے بڑھ کر آپ کے واسطے جگہ تیار کی اور آپ ذرا لیٹ کر سو گئے اور حضرت ابوبکر ادھر اُدھر نظر دوڑا کر دیکھنے لگے کہ کوئی تعاقب کرنے والا تو نہیں آ رہا۔اتنے میں حضرت ابو بکر کو ایک چرواہا نظر آیا جس کے ساتھ چند بکریاں تھیں جنہیں وہ اُسی پتھر کی طرف سایہ کی غرض سے لا رہا تھا۔حضرت ابو بکر نے اس سے دودھ کی اجازت لے کر اس کے ہاتھ اور بکری کے تھن خوب اچھی طرح صاف کروائے اور پھر اسے دودھ دو ہنے کو کہا۔چنانچہ اس نے ایک برتن میں دودھ دوہا اور پھر حضرت ابو بکر اُسے پانی میں ٹھنڈا کر کے آپ کے پاس لائے۔اس وقت تک آپ نیند سے جاگ چکے تھے؛ چنانچہ حضرت ابوبکر نے آپ کے سامنے دودھ کا برتن پیش کیا اور آپ نے اسے نوش فرمایا اور حضرت ابوبکر روایت کرتے ہیں کہ اس سے میری طبیعت خوش ہو گئی۔اس کے بعد حضرت ابوبکر نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ کوچ کا وقت ہو گیا ہے آپ نے فرمایا۔”ہاں چلو۔چنانچہ آپ آگے روانہ ہو گئے لیکن ابھی آپ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ حضرت ابو بکڑ نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑا دوڑائے ان کے پیچھے آرہا ہے۔اس پر حضرت ابوبکر نے گھبرا کر کہا۔"یا رسول اللہ ! کوئی شخص ہمارے تعاقب میں آرہا ہے۔آپ نے فرمایا۔” کوئی فکر نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ 9 : بخاری باب الحجر ة عن براء بن عازب ے : خمیس وزرقانی سے : مسند احمد و ترمذی بحوالہ زرقانی : ترندی و نسائی بحوالہ زرقانی کتاب المغازی ۵ : بخاری باب المهاجرین