سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 264
۲۶۴ ہے بلکہ اس وقت کے لحاظ سے ایسا ہونا بالکل قرین قیاس ہے۔بہر حال قریش میں سے کوئی شخص آگے نہیں بڑھا اور یہیں سے سب لوگ واپس چلے گئے لے روایت آتی ہے کہ قریش اس قدر قریب پہنچ گئے تھے کہ اُن کے پاؤں غار کے اندر سے نظر آتے تھے اور ان کی آواز سُنائی دیتی تھی۔اس موقع پر حضرت ابو بکر نے گھبرا کرمگر آہستہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ ! قریش اتنے قریب ہیں کہ اُن کے پاؤں نظر آ رہے ہیں اور اگر وہ ذرا آگے ہو کر جھانکیں تو ہم کو دیکھ سکتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: پھر فرمایا: ہے۔،، لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا یعنی ہر گز کوئی فکر نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ وَمَاظُنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِتُهُمَا یعنی ”اے ابو بکر ! تم ان دو شخصوں کے متعلق کیا گمان کرتے ہو جن کے ساتھ تیسرا خدا ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب قریش غار کے منہ کے پاس پہنچے تو حضرت ابوبکر سخت گھبرا گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گھبراہٹ کو دیکھا تو تسلی دی کہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔اس پر حضرت ابوبکر نے رقت بھری آواز میں کہا: إِنْ قُتِلْتُ فَاَنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَإِنْ قُتِلْتَ اَنْتَ هَلَكَتِ الْأُمَّةُ _ یعنی 'یا رسول اللہ! اگر میں مارا جاؤں تو میں تو بس ایک اکیلی جان ہوں لیکن اگر خدانخواستہ آپ پر کوئی آنچ آئے تو پھر تو گویا ساری اُمت کی اُمت مٹ گئی۔“ اس پر آپ نے خدا سے الہام پا کر یہ الفاظ فرمائے کہ : " لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا : یعنی ”اے ابو بکر ! ہر گز کوئی فکر نہ کرو کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم دونوں اس کی حفاظت میں ہیں ، یعنی تم تو میری وجہ سے فکرمند ہو اور تمہیں اپنے جوش اخلاص میں اپنی جان کا کوئی غم نہیں مگر خدا تعالیٰ ا: زرقانی و تاریخ خمیس : زرقانی ے : بخاری باب مناقب المهاجرین : سورة توبه : ۴۰