سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 263
۲۶۳ کہ آپ اُن کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے اُن کے درمیان سے نکل گئے اور اُن کو خبر تک نہ ہوئی۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ مگر جلد جلد مکہ کی گلیوں میں سے گذر رہے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں آبادی سے باہر نکل گئے اور غار ثور کی راہ لی۔حضرت ابو بکر کے ساتھ پہلے سے تمام بات طے ہو چکی تھی وہ بھی راستہ میں مل گئے۔غار ثور جو اسی واقعہ کی وجہ سے اسلام میں ایک مقدس یادگار مجھی جاتی ہے مکہ سے جانب جنوب یعنی مدینہ سے مختلف جانب تین میل کے فاصلہ پر ایک بنجر اور ویران پہاڑی کے اوپر خاصی بلندی پر واقع ہے اور اس کا راستہ بھی بہت دشوار گزار ہے وہاں پہنچ کر پہلے حضرت ابو بکڑ نے اندر گھس کر جگہ صاف کی اور پھر آپ بھی اندر تشریف لے گئے۔دوسری طرف وہ قریش جو آپ کے گھر کا محاصرہ کئے ہوتے تھے وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھتے تھے تو حضرت علیؓ کو آپ کی جگہ پر لیٹا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے تھے لیکن صبح ہوئی تو انہیں علم ہوا کہ ان کا شکار اُن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔اس پر وہ ادھر اُدھر بھاگے۔مکہ کی گلیوں میں صحابہ کے مکانات پر تلاش کیا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔اس غصہ میں انہوں نے حضرت علی کو پکڑا اور کچھ مارا پیٹا۔حضرت ابوبکر کے مکان پر جا کر شور کیا اور ان کی صاحبزادی کو ڈانٹا ڈ پٹا مگر ان باتوں سے کیا بنتا تھا۔آخر انہوں نے عام اعلان کیا کہ جو کوئی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اس کو ایک سو اونٹ انعام دیئے جاویں گے ، چنانچہ کئی لوگ انعام کی طمع میں مکہ کے چاروں طرف اِدھر اُدھر نکل گئے۔خود رؤساء قریش بھی سراغ لیتے لیتے آپ کے پیچھے نکلے اور عین غار ثور کے منہ پر جاپہنچے۔یہاں پہنچ کر اُن کے سراغ رسان نے کہا کہ بس سراغ اس سے آگے نہیں چلتا۔اس لیے یا تو محمد یہیں کہیں پاس ہی چھپا ہوا ہے یا پھر آسمان پر اُڑ گیا ہے۔کسی نے کہا۔کوئی شخص ذرا اس غار کے اندر جا کر بھی دیکھ آئے۔مگر ایک اور شخص بولا کہ واہ یہ بھی کوئی عقل کی بات ہے۔بھلا کوئی شخص اس غار میں جا کر چھپ سکتا ہے۔یہ ایک نہایت تاریک و تار اور خطرناک جگہ ہے اور ہم ہمیشہ سے اسے اسی طرح دیکھتے آئے ہیں۔یہ بھی روایت آتی ہے کہ غار کے منہ پر جو درخت تھا۔اُس پر آپ کے اندر تشریف لے جانے کے بعد مکڑی نے جالاتن دیا تھا اور عین منہ کے سامنے کی شاخ پر ایک کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے تھے۔یہ روایت تو کمزور ہے لیکن اگر ایسا ہوا ہو تو ہر گز تعجب کی بات نہیں۔مکڑی بعض اوقات چند منٹ میں ایک وسیع جگہ پر جالاتن دیتی ہے اور کبوتری کو بھی گھونسلا تیار کرنے اور انڈے دینے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔اس لیے اگر خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی حفاظت کے لیے ایسا تصرف فرمایا تو ہرگز بعید نہیں