سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 257

۲۵۷ ۱۰۔عبداللہ بن عمرو قبیلہ خزرج کے خاندان بنو سلمہ سے تھے جنگ اُحد میں شہید ہوئے ان کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے صاحبزادہ جابر بن عبداللہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے والد سے اللہ تعالیٰ نے بالمشافہ کلام کیا اور ان سے خوش ہو کر کہا کہ ”اے میرے بندے! تم نے جو مانگنا ہو مانگو۔تمہارے والد نے عرض کیا۔اے میرے خالق و مالک میری بس یہی خواہش ہے کہ پھر زندہ کیا جاؤں تا پھر اسلام کے راستہ میں جان دوں۔ارشاد ہوا ” ہم ایسا ضرور کر دیتے، مگر ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ کوئی بشر اس دنیا سے گذر کر پھر اس دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔عبداللہ بن عمرو کے متعلق یہ روایت بھی آتی ہے کہ ایک دفعہ جنگ اُحد کے چھیالیس سال بعد کسی سیلاب کی وجہ سے خطرہ پیدا ہوا تو اُن کی قبر کھود کر ان کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز کی گئی۔اس وقت معلوم ہوا کہ ان کی نعش اسی طرح صحیح و سلامت تھی جس حالت میں کہ انہیں دفن کیا گیا تھا۔۱۱- سعد بن خیثمہ قبیلہ اوس کے خاندان بنو حارثہ میں سے تھے۔جنگ بدر میں شہید ہوئے۔جب یہ جنگ بدر کے لیے مدینہ سے نکلنے لگے تو ان کے والد نے کہا کہ ہم میں سے ایک کو گھر پر ٹھہرنا چاہیے اور چونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانا چاہتا ہوں تم گھر پر ٹھہر و۔مگر انہوں نے اصرار کیا اور آخر یہ تجویز ہوئی کہ اس غرض کے لئے قرعہ ڈالا جائے؛ چنانچہ قرعہ میں ان کا نام نکلا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل آئے اور اُسی جنگ میں شہید ہوئے۔۱۲- منذر بن عمرو قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور ایک صوفی مزاج آدمی تھے۔بئر معونہ “ میں شہید ہوئے لیے : اسدالغابہ