سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 246
۲۴۶ آئے گا تو ہم اس کا ساتھ دے کر بت پرستوں اور کافروں کو نیست و نابود کر دیں گے اور وہ ایک بڑی سلطنت قائم کرے گا اور ہم اُسے مان کر دنیا میں طاقتور ہو جائیں گے۔وغیرہ وغیرہ یے یثرب میں اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسب دستور مکہ میں اشہر حرم کے اندر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ آپ کو معلوم ہوا کہ میثرب کا ایک مشہور شخص سوید بن صامت مکہ میں آیا ہوا ہے۔سوید مدینہ کا ایک مشہور شخص تھا اور اپنی بہادری اور نجابت اور دوسری خوبیوں کی وجہ سے کامل کہلاتا تھا اور شاعر بھی تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پتہ لیتے ہوئے اس کے ڈیرے پر پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔اُس نے کہا میرے پاس بھی ایک خاص کلام ہے جس کا نام مجلہ لقمان ہے۔آپ نے کہا مجھے بھی اس کا کوئی حصہ سناؤ۔جس پر سوید نے اس صحیفہ کا ایک حصہ آپ کو سنایا۔آپ نے اس کی تعریف فرمائی کہ اس میں اچھی باتیں ہیں مگر فرمایا کہ میرے پاس جو کلام ہے وہ بہت بالا اور ارفع ہے چنانچہ پھر آپ نے اُسے قرآن شریف کا ایک حصہ سنایا۔جب آپ ختم کر چکے تو اس نے کہا۔ہاں واقعی یہ بہت اچھا کلام ہے اور گووہ مسلمان نہیں ہوا مگر اس نے فی الجملہ آپ کی تصدیق کی اور آپ کو جھٹلایا نہیں لیکن افسوس ہے کہ مدینہ میں واپس جا کر اُسے زیادہ مہلت نہیں ملی اور وہ جلد ہی کسی ہنگامہ میں قتل ہو گیا۔یہ جنگ بعاث سے پہلے کی بات ہے۔اس کے بعد اسی زمانہ کے قریب یعنی جنگ بعاث سے قبل آپ پھر ایک دفعہ حج کے موقع پر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ اچانک آپ کی نظر چندا جنبی آدمیوں پر پڑی۔یہ قبیلہ اوس سے تھے اور اپنے بت پرست رقیبوں یعنی خزرج کے خلاف قریش سے مدد طلب کرنے آئے تھے۔یہ بھی جنگ بعاث سے پہلے کا واقعہ ہے۔گویا یہ طلب مدد اسی جنگ کی تیاری کا ایک حصہ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔آپ کی تقریرین کر ایک نو جوان شخص جس کا نام ایاس تھا بے اختیار بول اُٹھا۔”خدا کی قسم جس طرف یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم کو بلاتا ہے وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں۔“ مگر اس گروہ کے سردار نے ایک کنکروں کی مٹھی اٹھا کر اس کے منہ پر ماری اور کہا ”چپ رہو۔ہم اس کام کے لیے یہاں نہیں آئے اور اس طرح اس وقت یہ معاملہ یونہی دب کر رہ گیا۔مگر لکھا ہے کہ ایاس جب واپس وطن جا کر فوت ہونے لگا تو اس کی زبان پر کلمہ تو حید جاری تھا۔کے اس کے کچھ عرصہ بعد جب جنگ بعاث ہو چکی تو 1 نبوی کے ماہ رجب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ل : ابن ہشام : طبری : ابن ہشام زرقانی