سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 241 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 241

۲۴۱ سے بڑھ کر عبادت کی روح کو زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے کوئی صورت خیال میں نہیں آسکتی۔سلطنت ہائے روم و فارس کی باہمی جنگ اور اس اسلام سے قبل اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تمام متمدن دنیا میں سب سے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ وسیچ سلطنتیں دو تھیں۔سلطنت فارس اور سلطنت روم اور یہ دونوں سلطنتیں عرب کے قریب واقع تھیں۔سلطنت فارس عرب کے شمال مشرق میں تھی اور سلطنت روم شمال مغرب میں۔چونکہ ان سلطنتوں کی سرحد ملتی تھی اس لیے بعض اوقات ان کا آپس میں جنگ و جدل بھی ہو جا تا تھا۔اس زمانہ میں بھی جس کا اب ہم ذکر کر رہے ہیں یہ سلطنتیں برسر پیکار تھیں اور سلطنت فارس نے سلطنت روم کو زیر کیا ہوا تھا اور اس کے کئی قیمتی علاقے چھین لیے تھے اور اُسے برابر دباتی چلی جاتی تھی یا قریش چونکہ بت پرست تھے اور فارس کا بھی قریباً قریباً یہی مذہب تھا۔اس لیے قریش مکہ فارس کی ان فتوحات پر بہت خوش تھے مگر مسلمانوں کی سلطنت روم سے ہمدردی تھی کیونکہ رومی سلطنت عیسائی تھی اور عیسائی بوجہ اہل کتاب ہونے اور حضرت مسیح ناصری سے نسبت رکھنے کے بت پرست اور مجوس اقوام کی نسبت مسلمانوں کے بہت قریب تھے۔ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی کہ گو اس وقت روم فارس سے مغلوب ہو رہا ہے مگر چند سال کے عرصہ میں وہ فارس پر غالب آ جائے گا اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔یہ پیشگوئی سن کر مسلمانوں نے جن میں حضرت ابوبکر" کا نام خاص طور پر مذکور ہوا ہے مکہ میں عام اعلان کرنا شروع کیا کہ ہمارے خدا نے یہ بتایا ہے کہ عنقریب روم فارس پر غالب آئے گا۔قریش نے جواب دیا کہ اگر یہ پیشگوئی سچی ہے تو آؤ شرط لگا لو۔چونکہ اس وقت تک اسلام میں شرط لگانا ممنوع نہیں ہوا تھا۔حضرت ابو بکرؓ نے اسے منظور کر لیا اور رؤساء قریش اور حضرت ابوبکر کے درمیان چند اونٹوں کی ہار جیت پر شرط قرار پا گئی اور چھ سال کی میعاد مقرر ہوئی مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا۔چھ سال کی میعاد مقرر کرنا غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو میعاد کے متعلق بِضْعِ سِنِينَ کے الفاظ فرمائے ہیں جو عربی محاورہ کی رو سے تین سے لے کے نو تک کے لیے بولے جاتے ہیں۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ آپ مکہ میں ہی مقیم تھے اور ہجرت نہیں ہوئی تھی اس کے بعد مقررہ میعاد کے اندر اندر ہی جنگ نے اچانک پلٹا کھایا اور روم نے فارس کو زیر کر کے تھوڑے عرصہ میں ہی اپنا : چیمبرس انسائیکلو پیڈیا حالات ہر قل سے : سورة روم : ۲ تا ۵