سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 240
۲۴۰ ہے۔چنانچہ روزہ کے متعلق آپ فرماتے ہیں: مَنْ لَمْ يَدَعُ قَوْلَ النُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ یعنی ”جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ اور ریا کاری کو ترک نہیں کرتا اور اسی پر عامل رہتا ہے تو وہ یا در کھے کہ خدا کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔یعنی اس صورت میں اس کا روزہ کوئی روزہ نہیں بلکہ وہ بلا وجہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے جس کا اسے کوئی بھی ثواب نہیں۔“ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اسلام نے اپنی مختلف عبادات میں ایسی تعلیم دی ہے کہ جس میں اس اصول کو کہ عبادت میں اصل چیز اُس کی روح ہے عملاً ملحوظ رکھا گیا ہے۔مثلاً نماز کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ وہ قبلہ رخ ہو کر ادا ہونی چاہئے لیکن ایسے حالات میں جب کہ کسی مجبوری سے قبلہ رخ ہونا مشکل ہو جائے۔مثلاً انسان جب کسی سواری پر سوار ہو اور سواری کا رخ اس کے قابو میں نہ ہو یا کسی وقت بادل وغیرہ کی وجہ سے قبلہ کا رخ معلوم نہ ہو سکے تو اس قسم کی صورتوں میں اسلام کا یہ حکم ہے کہ پھر جدھر سواری کا رخ ہو یا جس طرف انسان قیاس کرے کہ ادھر قبلہ ہے اُدھر ہی منہ کر کے نماز ادا کر لی جاوے۔یا مثلا نماز کے لیے قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ کی حالتیں لازمی قرار دی گئی ہیں لیکن بایں ہمہ اگر بیماری کی وجہ سے کوئی شخص کھڑا نہ ہو سکے یا کوئی اور معذوری ہو تو اس کے لیے اجازت ہے کہ بیٹھ کر ہی نماز ادا کر لے اور اگر بیٹھ بھی نہ سکے تو لیٹے لیٹے ہی نماز پڑھ لے۔یہی اصول دوسری عبادتوں پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔گویا جہاں کہیں بھی عبادت کی روح اور اس کا جسم وقتی حالات کی مجبوری کی وجہ سے آپس میں ٹکرانے لگتے ہیں اور دونوں کو ایک وقت میں اختیار نہیں کیا جا سکتا تو وہاں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جسم کو چھوڑ دو اور روح کو اختیار کر لو۔جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اسلام میں اصل مقصود عبادت کی روح کو قرار دیا گیا ہے اور جسم کو محض جسم کی ظاہری شرکت اور روح کے بقا کے لیے رکھا گیا ہے۔وهو المراد۔پس یہ الزام کہ اسلام نے اپنی عبادات میں جسم کو شامل کر کے روح کو مٹا دیا ہے یا یہ کہ جسم پر زیادہ زور دے کر روح کو کمزور کر دیا ہے بالکل غلط اور بے بنیاد ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس معاملہ میں اسلامی تعلیم ایک ایسا اعلیٰ اور وسطی اور دلکش نمونہ پیش کرتی ہے جو نہ صرف ہر اعتراض سے بالا ہے بلکہ دنیا کا کوئی دوسرا مذ ہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔اور پھر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اسلام نے اپنی عبادات کے لیے جسم بھی ایسے تجویز کئے ہیں کہ ان ا : بخاری بحوالہ مشکوۃ باب تنزية الصوم -