سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 239 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 239

۲۳۹ اس قرآنی آیت میں جس وضاحت اور زور کے ساتھ اور جس مؤثر انداز میں اسلامی عبادات کے فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ کوئی دوسرا مذ ہب اس سے بہتر تعلیم نہیں پیش کر سکتا۔ان مختصر اور سادہ الفاظ میں اس غایت درجہ اہم اور نہایت وسیع مسئلہ کا ایسا نچوڑ آ جاتا ہے کہ جس کے بعد حقیقتا کسی اور تشریح کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ آیت ہم نے صرف مثال کے طور پر دی ہے ورنہ اسلامی شریعت اس قسم کی تعلیم سے بھری پڑی ہے کہ عبادات میں گو فطرت انسانی کے ازلی قانون کے ماتحت جسم کا ہونا بھی ضروری ہے مگر اصل چیز روح ہے جس کے بغیر کسی جسم کو زندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔مثلاً قربانی کے مسئلہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالْبُدْنَ جَعَلْنَهَا لَكُمْ مِنْ شَعَابِرِ اللهِ لَكُمْ فَيْهَا خَيْرُ * فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنُهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَيكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ یعنی ہم نے قربانی کے جانوروں کو تمہارے لیے خدا کی شناخت کا ایک ذریعہ بنایا ہے اور ان میں تمہارے لیے بہت خیر و برکت رکھی گئی ہے۔پس جب تم انہیں ذبح کرنے کے لیے باندھو تو اُن پر خدا کا نام پڑھ لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر کر جاں بحق ہو جائیں تو تم ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور حاجت مندوں اور فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ہم نے ان جانوروں کو اس غرض سے تمہارے قابو میں دے رکھا ہے تا کہ تم خدا کے شکر گزار بندے بنو۔مگر یا درکھو کہ ان جانوروں کا گوشت اور خون خدا کو نہیں پہنچتا بلکہ جو چیز خدا کو پہنچتی ہے وہ اس تقویٰ کی روح ہے جس سے تم یہ کام کرتے ہو اور ہم نے اسی تقویٰ کی روح کو تمہارے قابو میں رکھنے کے لیے یہ طریق مقرر کیا ہے تا کہ تم اس رنگ میں جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے اس کی بڑائی بیان کر سکو اور اے رسول بشارت دے ان لوگوں کو جو اس رنگ میں خدا کی عبادت بجالاتے ہیں۔اسی طرح حدیث میں بھی کثرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وارد ہوئے ہیں جن میں آپ نے اسلامی عبادات کے متعلق یہ تشریح فرمائی ہے کہ ان میں اصل اور حقیقی مقصود عبادت کی روح ا : سورۃ حج: ۳۷ ، ۳۸