سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 232 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 232

۲۳۲ کے دو حصے قرار دیتے ہیں انہوں نے بالعموم اسراء کو پہلے اور معراج کو بعد میں رکھا ہے کیونکہ ان کا یہ خیال ہے کہ پہلے آپ مکہ سے بیت المقدس تک گئے اور پھر وہاں سے آسمانوں کی طرف اٹھائے گئے لیکن ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ خیال درست نہیں ہے بلکہ اسراء اور معراج جدا جدا چیزیں ہیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کو جدا گانہ چیزیں ماننے والوں کے درمیان بھی ان کی ترتیب کے متعلق اختلاف ہے۔ابن اسحاق نے اسراء کو پہلے رکھا ہے اور معراج کو بعد میں اور اس خیال کی تائید بخاری سے بھی ہوتی ہے جس میں اسراء اور معراج کے الگ الگ باب باندھ کر اسراء کو معراج سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔مگر ابن سعد نے صراحت کے ساتھ اس کے خلاف رائے ظاہر کی ہے اور معتین تاریخیں بیان کر کے معراج کو اسراء سے پہلے رکھا ہے؛ چنانچہ ابن سعد نے معراج کی تاریخ رمضان ۱۲ نبوی بیان کی ہے اور اسراء کی ربیع الاول ۳۱۳ اور طبری کا بھی اسی طرف میلان نظر آتا ہے کہ معراج کا واقعہ اسراء سے پہلے کا ہے کیونکہ طبری نے معراج کو ابتداء دعوئی میں رکھا ہے۔یہ ہم ان تاریخوں کی تحقیق میں تو نہیں گئے مگر واقعات کے تفصیلی مطالعہ سے ہم اس طرف ضرور مائل ہیں کہ معراج کا واقعہ اسراء سے پہلے ہوا تھا۔واللہ اعلم۔پنجگانہ نماز کا فرض ہونا معراج سے پہلے اسلام میں نماز کا آغاز تو ہو چکا تھا۔چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مکہ کی گھاٹیوں میں اکیلے اکیلے یا ایک ایک یا دو دومل کر نماز پڑھا کرتے تھے مگر باقاعدہ صورت میں پانچ وقت کی نماز کا آغاز معراج میں ہوا اور اس وقت سے اسلامی عبادات کا پہلا اور سب سے بڑا رکن اپنی موجودہ صورت میں قائم ہو گیا۔یعنی اول پو پھٹنے کے بعد مگر سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز۔دوسرے سورج ڈھلنے کے بعد مگر اس کے زیادہ نیچے ہونے سے پہلے ظہر کی نماز۔تیسرے سورج کے نیچے ہو جانے کے بعد مگر روشنی دھیمی پڑنے سے پہلے عصر کی نماز۔چوتھے سورج کے ڈوبنے کے بعد مگر شفق غائب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز۔پانچویں شفق غائب ہونے کے بعد مگر نصف شب سے پہلے عشاء کی نماز۔ان پانچوں فرض نمازوں کے اوقات کے متعلق گو قرآن شریف نے صرف ایک اجمالی اشارہ کیا ہے۔مگر حدیث میں صراحت کے ساتھ ان کی تعیین بیان ہوئی ہے۔جہاں یہ مذکور ہے کہ معراج کے بعد حضرت جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پانچوں نمازوں کے اوقات بالتفصیل سمجھائے۔لے : ابن ہشام ذکر اسراء : بخاری ابواب الاسراء والمعراج : طبقات ابن سعد جلدا : طبری ذکر معراج ۵ : سورۃ بنی اسرائیل : ۷۹ : بخاری کتاب مواقيت الصلوة