سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 216 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 216

۲۱۶ نظر نہیں آتی۔دوسرے اس سفر کے متعلق ان الفاظ کا استعمال کیا جانا کہ وہ ایک رات کے دوران میں مکمل ہو کر ختم ہو گیا سوائے اس کے اور کسی غرض و غایت کے لیے نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے روحانی ہونے کی طرف اشارہ کیا جائے۔کیونکہ عام حالات میں مادی اسباب کے ماتحت مکہ سے لے کر بیت المقدس تک کا سفر ایک رات کے اندراندر پورا ہونا بالکل ممکن نہ تھا۔تیسرے اس سفر کی غرض وغایت کے متعلق جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے اپنے بندے کو یہ سفر اس لیے کرایا ہے کہ اُسے اپنے بعض نشانات دکھائیں، یہ بھی اسے ایک روحانی امر ثابت کرتا ہے کیونکہ مکہ سے لے کر بیت المقدس کا ظاہری اور جسمانی سفر خواہ وہ ایک رات کے قلیل عرصہ میں ہی تکمیل کو پہنچ جائے ایک عجوبہ نمائی کے سوا اپنے اندر کوئی خاص شان کا پہلو نہیں رکھتا جسے مقام نبوت کے مناسب حال سمجھا جا سکے؛ البتہ اگر اس سفر کو کشفی رنگ میں ایک روحانی امر سمجھا جائے جس سے تصویری زبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی آئندہ ترقیات اور فتوحات مراد ہوں تو تب بیشک وہ ایک مقتدرانہ پیشگوئی کی صورت میں ایک بہت بڑا نشان قرار پاتا ہے جس کے مقابل پر ظاہری سفر کو کچھ بھی حیثیت حاصل نہیں۔علاوہ ازیں قرآن شریف نے اسی سورۃ بنی اسرائیل میں جس کے ابتداء میں اسراء کا ذکر آتا ہے، اسراء کے متعلق رؤیا کا لفظ استعمال کیا ہے۔جس سے اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ سفر ایک رؤیا کے رنگ میں تھا نہ کہ ایک ظاہری اور جسمانی سفر۔مگر اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ عربی میں رویا کے معنے صرف خواب کے نہیں ہوتے بلکہ عربی محاورہ کے مطابق رویا کا لفظ ہر اس روحانی نظارہ پر بولا جاتا ہے جو کسی انسان کو بطریق خواب یا کشف وغیرہ دکھایا جائے اور ہر قسم کے روحانی مناظر اس کے اندر شامل ہیں۔پس جہاں اسراء یا معراج کے متعلق رؤیا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس سے اردو محاورہ کے مطابق خواب مراد نہیں ہوتی بلکہ ایک اعلی درجہ کا روحانی کشف مراد ہوتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی ارفع اور اعلیٰ شان کے مطابق خاص مصالح الہی کے ماتحت دکھایا گیا۔بہر حال قرآن شریف نے واضح ارشادات کے ذریعہ اس بات کو کھول کر جتا دیا ہے کہ اسراء کوئی مادی امر نہیں تھا بلکہ وہ روحانی سفر تھا جس کی غرض و غایت خدا کے بعض مقتدرانہ نشانات دکھانا ہی تھی۔اسی طرح حدیث میں بھی اسراء کے متعلق صاف اشارہ آتا ہے کہ وہ ایک روحانی امر تھا نہ کہ جسمانی اور ظاہری سفر۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ مجھے له : سورۃ بنی اسرائیل : ۶۱ :