سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 8
دوسری طرف قرآن شریف کے حفظ کرانے کا ایسا انتظام تھا کہ اس کے نزول کے ساتھ ساتھ صحابہ کی ایک جماعت اُسے مقرر کردہ ترتیب کے مطابق حفظ کرتی جاتی تھی اور گونجز وی طور پر حفظ کرنے والوں کی تعداد تو بہت زیادہ تھی مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سارے قرآن کے حافظ بھی کافی تعداد میں موجود تھے جن میں سے کم از کم چار ایسے تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجربہ کر کے اور ہر طرح قابلِ اعتماد پا کر دُوسرے صحابہ کی تعلیم کے لیے مقرر فرمایا تھا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تو جب کہ قرآن شریف مکمل ہو کر ایک مصحف کی صورت میں آچکا تھا، حفاظ قرآن کی تعداد نے ایک حیرت انگیز رفتار کے ساتھ ترقی کی کہ حضرت عمرؓ کے عہد میں صرف ایک جگہ کی اسلامی فوج میں تین سو سے زائد حافظ قرآن موجود تھے۔ان اسباب کے نتیجہ میں جن کے پیچھے خدائی حفاظت کا ہاتھ کام کر رہا تھا، ابتدائے اسلام سے ہی قرآن شریف کا متن ہر قسم کی تحریف اور دست بُرد کے خطرہ سے محفوظ ہو گیا تھا۔اور اس زمانہ کے بعد تو اس کے مستند نسخے اس طرح مختلف ممالک میں پھیل گئے اور حفاظ قرآن کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ تحریف کا امکان ہی باقی نہیں رہا۔اور جیسا کہ دوست و دشمن سب نے تسلیم کیا ہے اس بات میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ آج کا قرآن بغیر کسی زیر وزبر کے فرق کے وہی ہے جو آج سے تیرہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔اس بارہ میں مثال کے طور پر بعض عیسائی محققین کی رائے درج ذیل کی جاتی ہے: سرولیم میور لکھتے ہیں : ”دنیا کے پردے پر غالباً قرآن کے سوا کوئی اور کتاب ایسی نہیں جو بارہ سو سال کے طویل عرصہ تک بغیر کسی تحریف اور تبدیلی کے اپنی اصلی صورت میں محفوظ رہی ہو۔“ پھر لکھتے ہیں : ”ہماری اناجیل کا مسلمانوں کے قرآن کے ساتھ مقابلہ کرنا جو بالکل غیر محرف ومبدل چلا آیا ہے دو ایسی چیزوں کا مقابلہ کرنا ہے جنہیں آپس میں کوئی بھی نسبت نہیں۔“ پھر لکھتے ہیں : اس بات کی پوری پوری اندرونی اور بیرونی ضمانت موجود ہے کہ قرآن اب بھی اُسی شکل وصورت میں ہے جس میں کہ محمد نے اُسے دُنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔“ : بخاری فضائل القرآن : کنز العمال باب فی القرآن فصل فی فضائل القرآن