سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 201
۲۰۱ سا نوٹ لکھنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔سو جاننا چاہیئے کہ اسلام کے کئی ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق مخالفین نے یک طرفہ خیالات کے ماتحت اعتراض کر دیئے ہیں اور کبھی ٹھنڈے دل سے اُن پر غور نہیں کیا اور نہ تجربہ اور مشاہدہ کی روشنی میں ان کی حقیقت کو پرکھا ہے۔انہی میں سے ایک تعد دازدواج کا مسئلہ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔سو اس بارہ میں پہلے تو یہ جاننا چاہیئے کہ فطرت بے شک ایک نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اس کی ہدایت کے واسطے ودیعت کیا ہے لیکن یہ نور بعض اوقات مخالف عناصر کے نیچے دب کر کمزور یا مُردہ بھی ہو جاتا ہے اور ایسے حالات میں اس کا فتویٰ قابل قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو پھر تعصبات سے پاک نہ کیا جاوے؛ چنانچہ دیکھ لو مسئلہ طلاق کے متعلق عیسائی فطرت صدیوں سے مخالف عناصر کے نیچے دب کر کمزور ہو گئی تھی اس لیے اس کا آج تک یہی فتویٰ چلا آیا ہے کہ عورت کی طرف سے زنا سرزد ہونے کے سوا اسے طلاق دینا ہرگز جائز نہیں ہے؛ چنانچہ اسی کے مطابق مسیحیوں نے اپنے قوانین بھی وضع کر لئے لیکن اب مشاہدہ اور تجربہ کے دھکے کھا کر ان کی سوئی ہوئی فطرت کچھ بیدار ہوئی ہے اور وہ اس طرف آ رہے ہیں کہ زنا ہی نہیں بلکہ دنیا میں اور بھی ایسے حالات ہو سکتے ہیں جن کے ماتحت میاں بیوی کا حسن معاشرت کے ساتھ اکٹھا رہنا محال ہو جاتا ہے۔چنانچہ اب عیسائی ممالک میں اسلامی تعلیم کے مطابق طلاق کے متعلق قانون پاس ہورہے ہیں۔بات یہ ہے کہ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کان کو بھلی معلوم ہوتی ہیں اور دل اُن کی طرف پسندیدگی کا میلان محسوس کرتا ہے مگر دراصل یہ ایک دھوکا ہوتا ہے کیونکہ عملی زندگی میں آکر ان کی حقیقت کا راز کھل جاتا ہے۔انہی میں سے مسئلہ طلاق ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور انہی میں سے تعد دازدواج کا مسئلہ ہے جس کے متعلق یہ مختصر نوٹ سپر د قلم کیا جا رہا ہے۔کہنے کو تو یہ ایک بڑی اچھی تعلیم ہے کہ انسان ہر حالت میں ایک بیوی رکھے اور کسی حالت میں بھی اسے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا اختیار نہ ہونا چاہیے لیکن اگر ہم غور سے کام لیں اور بنی نوع انسان کی مختلف ضروریات پر نظر ڈالیں تو ماننا پڑتا ہے کہ بعض اوقات انسان پر ضرور ایسے حالات آتے ہیں کہ جب نہ صرف خود اس کی بلکہ سوسائٹی کی فلاح و بہبودی اس بات کی مقتضی ہوتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔مثلاً (۱) کوئی ایسا شخص ہے جس کی ایک بیوی موجود ہے مگر بیوی کے کسی نقص کی وجہ سے اُس سے اولاد نہیں ہوتی یا (۲) ہوتی تو ہے مگر ماں کے کسی نقص کی وجہ سے مر مر جاتی ہے یا (۳) کوئی ایسا شخص ہے جس کی بیوی ایسے مرض میں مبتلا ہوگئی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ خاوند کی خاص ہمدردی اور توجہ کی تو ضرور حق دار ہے مگر وہ صحیح اہلی مباشرت کے قابل نہیں رہی یا